لندن، 13 جولائی (یواین آئی ) یاستیکا بھاٹیا کی شاندار سنچری، دونوں اننگز میں اسمرتی مندھانا کی نصف سنچریوں اور کرانتی گوڑ کی خطرناک گیند بازی (پنجہ) کی بدولت ہندوستان نے تاریخی لارڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ کو پیر کے روز 270 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دے دی۔میچ کے چوتھے دن جب کھیل کا آغاز ہوا تو ہندوستانی ٹیم تاریخی فتح سے محض 4 وکٹ دور تھی۔ اسنیہ رانا نے نصف سنچری بنانے والی ایمی جونز کو آؤٹ کر کے دن کی پہلی کامیابی حاصل کی، جس کے بعد دیپتی شرما نے یکے بعد دیگرے اسی وونگ اور لارین بیل کو بولڈ کر کے انگلینڈ کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔ایک اینڈ پر صوفی ایکلسٹن ڈٹی ہوئی تھیں اورہندوستان جیت سے صرف ایک وکٹ دوری پر تھا۔ جب ایکلسٹن 27 رنز پر کھیل رہی تھیں، تو شری چرنی کی گیند پر ان کے خلاف ایل بی ڈبلیو کی زوردار اپیل کی گئی۔ امپائر نے اسے ناٹ آؤٹ قرار دیا، تاہم کپتان ہرمن پریت کور نے ریویو لیا، لیکن ‘امپائرز کال ہونے کی وجہ سے ایکلسٹن بچ گئیں۔
ایکلسٹن نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا بہترین اسکور بنایا۔ جب وہ 44 رنز پر تھیں، تو دیپتی شرما کی گیند پر امپائر نے انہیں ایل بی ڈبلیو آؤٹ دے دیا۔ ایکلسٹن نے سوئپ شاٹ کھیلنے کی کوشش کی تھی، اس لیے انہوں نے فوراً ریویو لیا۔ ٹی وی امپائر نے الٹرا ایج میں دیکھا کہ گیند پہلے بلے کے اندرونی حصے سے ٹکرائی اور پھر پیڈ پر لگی تھی، جس کی وجہ سے وہ ایک بار پھر ناٹ آؤٹ رہیں اورہندوستان کا انتظار طویل ہو گیا۔اس کے بعد، اسنیہ رانا کی گیند پر لارین فائلر کے خلاف بھی ہندوستان نے ایک ریویو گنوایا، جہاں امپائر نے ایل بی ڈبلیو کی اپیل مسترد کر دی تھی۔ اس وقت ایکلسٹن 49 رنز پر کھیل رہی تھیں جبکہ فائلر کا ابھی کھاتہ بھی نہیں کھلا تھا۔
بالآخر، اسنیہ رانا نے صوفی ایکلسٹن کو 50 رنز کے انفرادی اسکور پر بولڈ کر کے انگلینڈ کی آخری وکٹ گرائی اورہندوستان کو 270 رنز کی تاریخی اور یادگار فتح دلا دی۔ انگلینڈ کی جانب سے ایکلسٹن نے سب سے بہترین مزاحمت دکھائی، جنہوں نے نصف سنچری بنانے کے ساتھ ساتھ دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں (پنجہ) بھی حاصل کیں۔ہندوستان نے انگلینڈ کو جیت کے لیے 457 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف دیا تھا۔ جواب میں تیسرے دن کا کھیل ختم ہونے تک انگلینڈ نے 130 رنز پر 6 وکٹیں گنوا دی تھیں۔ انگلینڈ کی اسٹار کھلاڑی ٹیمی بیومونٹ اور ہیدر نائٹ اپنے انٹرنیشنل کیریئر کا آخری میچ کھیل رہی تھیں، اور دونوں کو ان کی آخری اننگز میں کرانتی گوڑ نے اپنا شکار بنایا۔
اس سے قبل، انگلینڈ نے ٹاس جیت کرہندوستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔ اسمرتی مندھانا اپنا 300 واں بین الاقوامی میچ کھیل رہی تھیں اور انہوں نے پہلی اننگز میں 83 رنز کی شاندار باری کھیلی۔ ہرمن پریت کور اور رچا گھوش کی نصف سنچریوں کی بدولت ہندوستان نے پہلی اننگز میں 285 رنز بنائے تھے۔ جواب میں کرانتی گوڑ کی تباہ کن گیند بازی (5 وکٹیں) کی بدولت ہندوستان نے پہلی اننگز میں 115 رنز کی اہم برتری حاصل کی تھی۔ہندوستانی ٹیم نے اس برتری کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور انگلینڈ کو میچ میں واپسی کا کوئی موقع نہیں دیا۔ کرانتی گوڑ کو ان کی شاندار گیند بازی پر ‘پلیئر آف دی میچ کے اعزاز سے نوازا گیا۔