بھوپال، 9 ستمبر: دارالحکومت میں طویل عرصے سے التوا کا شکار ماسٹر پلان کو نافذ کرانے اور شہر کے تابناک مستقبل کی ضمانت کے لیے کانگریس کے مقامی رکنِ اسمبلی عارف مسعود کی کال پر بدھ کے روز تاریخی میراتھن ”رن فار ماسٹر پلان“ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہزاروں افراد پر مشتمل عوامی سیلاب امنڈ پڑا۔ یہ عوامی ریلی صبح 11 نمبر اسٹاپ سے شروع ہو کر حبیب گنج تھانے کے روبرو واقع راجیو گاندھی کے مجسمے کے پاس اختتام پذیر ہوئی۔ اس میراتھن دوڑ میں تاجر، جین زی، نوجوان طلبہ و طالبات، ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلاء، دانشوران اور سماجی کارکنوں سمیت ہزاروں کی تعداد میں عام شہریوں نے پرجوش شرکت کی۔
اس موقع پر موجود ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے رکنِ اسمبلی عارف مسعود نے کہا کہ ”رن فار ماسٹر پلان“ بھوپال کی ہمہ جہت ترقی، سنگین ٹریفک مسائل سے مستقل نجات اور آنے والی نسل کے سنہرے مستقبل کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک طرف تو وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے اپنے آبائی علاقے اجین میں ماسٹر پلان نافذ کر دیا ہے، وہیں دوسری جانب دارالحکومت بھوپال کے ساتھ کھلا سوتیلا سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھوپال کو ماسٹر پلان کی اشد ضرورت ہے اور صبح 7.00 بجے سے ہی ہزاروں شہریوں کی پُرعزم موجودگی اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ عوام اب مزید انتظار کے موڈ میں نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماسٹر پلان نافذ نہ ہونے کی وجہ سے تاجروں اور رہائشی علاقوں میں بسنے والے شہریوں کو سنگین مسائل اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس سے پوری عوام پریشان ہے؛ اس تقریب کا بنیادی مقصد سوئی ہوئی حکومت کی توجہ دارالحکومت کی ترقی اور ماسٹر پلان کے فوری نفاذ کی طرف مبذول کرانا ہے۔
اس میراتھن میں نمایاں طور پر بھوپال چیمبر آف کامرس کے صدر گووند گوئل، بھوج پور کلب کے صدر ارونیشور سنگھ دیو بابا صاحب، سینئر ایڈوکیٹ ونیت گودھا، اجے گپتا، ایڈوکیٹ سنجے گپتا اور سینئر کانگریس رہنما امت پانڈے سمیت کئی اہم شخصیات شریک ہوئیں۔