چنئی 20مئی: تمل ناڈو کی وجے حکومت کو حلیف جماعت کی ناراضی کا سامنا ہے۔حکومت میں شامل کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ایم) کے تیور سخت ہیں ۔اس نے واضح طور پر کہا کہ ہے اگر اپوزیشنAIADMK کو شامل کیا گیا تو وہ حکومت کی حمایت واپس لینے پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔ واضح رہے کہ حال ہی ہوئے اسمبلی انتخابات میں وجے کی ٹی وی کے کو سادہ اکثریت حاصل نہیں ہوئی تھی حالانکہ وہ بڑی پارٹی بن کر ضرورابھری تھی۔ پارٹی نے 108 نشستیں جیتی تھیں جبکہ حکومت بنانے کے لیے مزید حمایت کی ضرورت پڑی۔ اس کے بعد کانگریس، بائیں بازو کی پارٹیوں اور دیگر اتحادیوں کی مدد سے حکومت تشکیل دی گئی۔ سیاسی تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب یہ خبریں سامنے آئیں کہ اے آئی اے ڈی ایم کے کے ایک دھڑے کو کابینہ میں وزارتیں دی جا سکتی ہیں۔ اس امکان نے بائیں بازو کی جماعتوں کو سخت ناراض کر دیا ہے۔ سی پی آئی (ایم) کے ریاستی سیکریٹری پی شان مگم نے میڈیا سےبات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے وزیراعلیٰ ایسا فیصلہ نہیں کریں گے، تاہم اگر اے آئی اے ڈی ایم کے کو حکومت میں شامل کیا گیا تو ان کی جماعت کے لیے اتحاد میں رہنا ممکن نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ اسمبلی میں اعتماد کے ووٹ کے دوران وزیراعلیٰ وجے نے 144 ارکان کی حمایت حاصل کی تھی جبکہ اکثریت کے لیے 117 ووٹ درکار تھے۔ اس حمایت میں ٹی وی کے کے علاوہ کانگریس، سی پی آئی، سی پی آئی (ایم)، آئی یو ایم ایل اور وی سی کے کے ارکان شامل تھے۔ دوسری جانب اے آئی اے ڈی ایم کے کے اندر بھی شدید اختلافات پائے جا رہے ہیں۔ پارٹی کے 25 ارکان پر مشتمل ایک دھڑے نے فلور ٹیسٹ میں بالواسطہ طور پر وجے حکومت کی حمایت کی تھی، جبکہ پارٹی سربراہ ایڈاپڈی کے پلانی سوامی کے وفادار باقی 22 اراکان اسمبلی نے اس کی مخالفت کی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بائیں بازو کی پارٹیوںاور اے آئی اے ڈی ایم کے کے درمیان نظریاتی اختلافات کافی پرانے ہیں، خاص طور پر بی جے پی اور این ڈی اے حکومت سے اے آئی اے ڈی ایم کے کی قربت کے باعث لیفٹ پارٹیاں اسے حکومت میں شامل کرنے کی مخالف ہیں۔









