بھوپال:19؍مئی:وزیرقبائلی امور ڈاکٹر کنور وجے شاہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی نے قبائلی سماج کی تکالیف کو سمجھا اور ترقی کے عمل میں ان کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر پالیسیاں تیار کی ہیں۔ “وزیر اعظم جن من یوجنا” اور “دھرتی آبا گرام اتکرش” جیسی پہلوں کے ذریعے قبائلی سماج کی ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وہ منگل کے روز بھوپال کے آدی بھون میں قبائلی وقار اْتسو کے تحت “ٹیکنالوجی پر مبنی پائیدار قبائلی ترقی” کے موضوع پر منعقد ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ ورکشاپ میں پرنسپل سیکریٹری مسٹر گلشن بامرا، کمشنر ڈاکٹر ستیندر سنگھ سمیت ریاست بھر سے محکمہ کے فیلڈ افسران موجود تھے۔
وزیر ڈاکٹر شاہ نے بھگوان برسا منڈا کی تصویر پر گلپوشی کرکے ورکشاپ کا افتتاح کیا
وزیر ڈاکٹر شاہ نے کہا کہ وہ سال 1990 سے مسلسل قبائلی علاقوں کی نمائندگی کر رہے ہیں اور قبائلی سماج کے ساتھ مسلسل کام کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کے افسران بھی مستقل طور پر دیہات اور جنگلاتی علاقوں میں جائیں اور وہاں کے لوگوں کی زندگی کو قریب سے دیکھیں۔ اس کے ساتھ اپنے مشاہدات اور تجربات سے سامنے آنے والے حالات کو سمجھیں اور اسی کے مطابق کام کریں۔ وزیر ڈاکٹر شاہ نے کہا کہ قبائلی طبقے کے لیے حکومت کی مختلف اسکیموں کو ان کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے “جن بھاگیداری – سب سے دور، سب سے پہلے” مہم چلائی جا رہی ہے۔ اس مہم کے تحت کیمپوں کے ذریعے 18 محکموں کی 25 اسکیموں کا فائدہ قبائلی دیہی افراد کو پہنچایا جائے گا۔ وزیر ڈاکٹر شاہ نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی قیادت میں جنگلاتی علاقوں میں نمایاں کام ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1990 کی دہائی سے اب تک حالات میں بہت تبدیلی آئی ہے اور آج قبائلی سماج ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل ہو چکا ہے۔
وزیر ڈاکٹر شاہ نے بتایا کہ وہ اپنے اسمبلی حلقے میں آنگن واڑی مراکز میں 50 ہزار پانی کی بوتلیں تقسیم کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پہلی جماعت سے بارہویں جماعت تک کے 45 ہزار بچوں کو پینے کے پانی کے لیے بوتلیں فراہم کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپنے اسمبلی حلقے کی 150 گرام پنچایتوں میں واٹر کولر اور آر او مشینیں نصب کی گئی ہیں، جس سے ہر گاؤں اور ہر اسکول میں صاف پینے کا پانی دستیاب ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی علاقوں کی بچیاں شہروں کے کالجوں میں جانے سے ہچکچاتی ہیں اور سہولیات کی کمی کے باعث کئی مرتبہ اعلیٰ تعلیم چھوڑ دیتی ہیں۔ ایسے حالات میں انہوں نے تجرباتی طور پر اپنے علاقے میں چار بسیں چلائیں، جس کے بعد کالج جانے والی طالبات کی تعداد 30 فیصد سے بڑھ کر 80 فیصد ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس سہولت کو دیگر علاقوں تک بھی وسعت دی جانی چاہیے۔ورکشاپ میں روزگار اور ذریعہ معاش میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے موضوع پر مینِٹ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سنیَم شکلا نے خطاب کیا۔
پائیدار قبائلی ترقی میں جی آئی ایس اور سیٹلائٹ ریموٹ سینسنگ کے موضوع پر آئی آئی ایس ای آر کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر کمار گورو نے بھی خطاب کیا۔ ورکشاپ کے دوسرے اجلاس میں قبائلی ذریعہ معاش اور کاروباری ترقی کے موضوع پر آئی اے ایس آر ایم ٹرائیفیڈ کی مس پریتی میتھل نے خطاب کیا۔ “مصنوعی ذہانت ہندوستانی زراعت کو تبدیل کر رہی ہے” کے موضوع پر آئی آئی آئی ٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شبھرجیوتی دیب نے خطاب کیا۔ اس کے علاوہ “صحت کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال” کے موضوع پر آئی آئی آئی ٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نکھل کمار سنگھ نے معلومات فراہم کیں۔









