نئی دہلی 13اگست: پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے اختتام کے بعد مرکزی پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے میڈیا سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کو دو زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ کرن رجیجو نے کہا، “مانسون سیشن آج اختتام پذیر ہوا۔ ہم اسے دو زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ کام کے لحاظ سے یہ سیشن بہت کامیاب رہا۔ ہم نے کل 12 بل پاس کیے، لیکن بحث و مباحثہ کے لحاظ سے یہ سیشن اتنا کامیاب نہیں رہا۔” انہوں نے بتایا کہ ، “لوک سبھا نے مقررہ وقت کے مقابلے میں صرف 19 فیصد پروڈکٹیوٹی حاصل کی۔ راجیہ سبھا نے 39 فیصدرہی۔ راجیہ سبھا میں، اپوزیشن پارٹیوں نے کبھی ہنگامہ کیا اور کبھی واک آؤٹ ۔” کرن رجیجو نے مزید کہا، “لوک سبھا میں صرف ایک بل پر بحث ہوئی، دھوکہ دہی کو روکنے کا بل۔ اس کے علاوہ لوک سبھا میں کوئی اچھی بحث نہیں ہوئی۔ ہم اس سے خوش نہیں ہیں۔” کرن رجیجو نے ایوان میں اپوزیشن کے رویہ پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پارلیمنٹ میں تین دہائیوں کا تجربہ ہے۔ میں نے پہلی بار اپوزیشن کو بحث سے بھاگتے ہوئے دیکھا ہے۔ پہلی بار حکومت کہتی رہی کہ وہ بحث کے لیے تیار ہے لیکن اپوزیشن بھاگتی رہی ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ “یہ نئی چیز دیکھی گئی ہے، یہ سمجھ سے بالا ترہے۔” کانگریس پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے، مرکزی وزیر نے کہا، “کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ سمجھتے ہیں کہ ان کا کام صرف نعرے لگانا اور کارڈ لے کر ہنگامہ کرنا ہی رہ گیا ہے ۔ صبح ۔ صبح اٹھتے ہیں، پارلیمنٹ پہنچتے ہیں، اور نعرے لگاتے ہیں۔” کرن رجیجو نے کہا کہ انہیں کانگریس کے نئے ممبران پارلیمنٹ کے لیے برا لگا۔ “میں ان کا درد سمجھ سکتا ہوں، اگر بحث نہیں ہوگی تو وہ کیسے سیکھیں گے۔









