بھوپال: 16/ جون ( پریس ریلیز) آل انڈیا خدامِ ملت کے سنیوجک (کنوینر) مفتی سید دانش پرویز ندوی نے مجوزہ یکساں سول کوڈ (Uniform Civil Code – UCC) کے سلسلے میں مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے طلب کردہ آراء کے ضمن میں اپنا تفصیلی موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان کا آئین مذہبی آزادی، ثقافتی تنوع اور سماجی کثرتیت کا ضامن ہے، لہٰذا ایسے حساس اور بنیادی نوعیت کے معاملے میں تمام مذہبی طبقات، ماہرین قانون، دانشوران اور سماجی نمائندوں سے وسیع پیمانے پر مشاورت ناگزیر ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہندوستان مختلف مذاہب، زبانوں، ثقافتوں اور تہذیبی روایات کا گہوارہ ہے۔ ملک کی اصل طاقت اسی تنوع اور باہمی احترام میں مضمر ہے۔ آئینِ ہند کے آرٹیکل 25، 26، 29 اور 30 تمام شہریوں اور مذہبی برادریوں کو اپنی مذہبی روایات، تہذیبی شناخت اور ثقافتی اقدار کے تحفظ کا بنیادی حق عطا کرتے ہیں۔
مفتی سید دانش پرویز ندوی نے کہا کہ مسلم پرسنل لا محض چند سماجی رسوم و رواج کا نام نہیں بلکہ اسلامی شریعت کا ایک بنیادی اور لازمی حصہ ہے، جس کا تعلق نکاح، طلاق، وراثت، وصیت اور خاندانی نظام سے ہے۔ اس لیے ایسے معاملات میں کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت مذہبی حساسیت، آئینی تقاضوں اور جمہوری اصولوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دستورِ ہند کے رہنما اصولوں میں شامل آرٹیکل 44 اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے، تاہم اسے نافذ کرنے کی کسی بھی کوشش میں بنیادی حقوق، مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے آئینی تحفظات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہندوستان کا جمہوری نظام مکالمے، اعتماد سازی اور باہمی رضامندی پر قائم ہے، نہ کہ یکطرفہ فیصلوں پر۔
مفتی ندوی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی کمیونٹی کے مذہبی اور خاندانی قوانین میں تبدیلی یا مداخلت اس کی واضح رضامندی اور وسیع مشاورت کے بغیر نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کسی طبقے کو یہ احساس پیدا ہو کہ اس کی مذہبی شناخت یا شخصی قوانین کو نظر انداز کیا جا رہا ہے تو اس سے غیر ضروری خدشات اور سماجی بے چینی پیدا ہو سکتی ہے، جو قومی ہم آہنگی کے لیے مناسب نہیں ہوگی۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یکساں سول کوڈ کے مسئلے پر حتمی فیصلہ کرنے سے قبل تمام مذہبی برادریوں، مسلم پرسنل لا کے ماہرین، علماء، ماہرین قانون اور سماجی تنظیموں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی جائے اور عوامی تجاویز کو سنجیدگی کے ساتھ زیر غور لایا جائے۔
اہم تجاویز:
یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کے عمل کو فی الحال مؤخر کیا جائے۔تمام مذہبی طبقات اور ماہرین قانون کے ساتھ جامع مذاکرات کیے جائیں۔آئینِ ہند کے تحت حاصل مذہبی آزادی اور ثقافتی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔ملک کی کثرت پسند روایت اور سماجی تنوع کو برقرار رکھتے ہوئے پرسنل لاز کی آئینی حیثیت کو برقرار رکھا جائے۔
عوامی تجاویز اور اعتراضات کی شفاف جانچ کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے۔
آخر میں مفتی سید دانش پرویز ندوی نے عوام، علماء، دانشوروں، وکلاء، سماجی کارکنوں اور تمام انصاف پسند شہریوں سے اپیل کی کہ وہ UCC Portal (ucc.mp.gov.in) پر اپنی آراء ضرور درج کریں تاکہ پالیسی سازی کا عمل زیادہ شفاف، جمہوری اور عوامی امنگوں کے مطابق بن سکے۔انہوں نے کہا کہ “ہندوستان کی اصل پہچان اس کی وحدت میں کثرت ہے۔ آئینی اقدار، مذہبی آزادی اور قومی یکجہتی کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ ہر فیصلہ وسیع مشاورت، باہمی احترام اور جمہوری اصولوں کی روشنی میں کیا جائے۔
مفتی سید دانش پرویز ندوی
کنوینر
آل انڈیا خدامِ ملت
بھوپال