نئی دہلی 23جون نیٹ امتحان کے پیپر لیک معاملے پر جاری احتجاج کے درمیان مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے “Cockroach Janata Party پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ’’انتشار پسند عناصر کی بی ٹیم‘‘ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب مذکورہ تنظیم مسلسل ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے اور وزارت تعلیم کو امتحانی نظام میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے۔این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دھرمیندر پردھان نے کہا کہ کچھ ایسی قوتیں، جنہیں جمہوری عمل کے ذریعے عوام نے مسترد کر دیا، اب مختلف شکلوں میں سامنے آ کر نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا ’’یہ لوگ انتشار پھیلانے والی قوتوں کی بی ٹیم ہیں۔ جنہیں جمہوریت نے مسترد کیا، وہ اب بھیس بدل کر نظام کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے حق میں نعرے لگاتے ہیں جو ملک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی شناخت ہو چکی ہے۔‘‘ مرکزی وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ بعض عناصر ملک کی ترقی اور پیش رفت پر یقین نہیں رکھتے اور ہر معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
Cockroach Janata Party گزشتہ کئی ہفتوں سے یوجی نیٹ کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔ تنظیم کا مطالبہ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی بے ضابطگیوں کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ پیپر لیک کے الزامات سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں طلبہ، والدین اور مختلف حلقوں میں شدید تشویش پائی گئی، جس کے نتیجے میں امتحان کی شفافیت پر سوالات اٹھے اور نئے امتحان کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔ دھرمیندر پردھان کا یہ بیان ایک دن بعد سامنے آیا جب 22 لاکھ سے زائد امیدواروں نے نیٹ کا دوبارہ امتحان دیا۔ یہ ری-ایگزام ایک ماہ سے زائد عرصے بعد منعقد کیا گیا، کیونکہ پہلے امتحان کو مبینہ پیپر لیک کے باعث منسوخ کر دیا گیا تھا۔
حکومت کی جانب سے امتحان کے انعقاد کے لیے غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے۔ امتحانی مراکز کی نگرانی کے لیے مسلح افواج، مختلف ریاستوں کی پولیس اور سینئر افسران کو تعینات کیا گیا تاکہ امتحانی عمل کو ہر قسم کی بے ضابطگی سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ADVERTISEMENT
یہ بھی پڑھیں: تمل ناڈو کے چیف منسٹر وجے نے نیٹ امتحان پرکیا شدید اعتراض، زبان کے نفاذ کی مخالفت، ریاستی مفاد کے لیے اتحاد پر زور
شفاف اور منصفانہ امتحان کا دعویٰ
قومی امتحانی ادارے نے کہا کہ امیدواروں کے لیے شفاف، منصفانہ اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے گئے تھے۔ حکام کے مطابق سخت نگرانی اور جدید سکیورٹی نظام کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ دوبارہ کسی قسم کی بے ضابطگی نہ ہو اور امتحان کی ساکھ برقرار رہے۔
دھرمیندر پردھان نے بھی ری-ایگزام کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں امتحان پرامن اور منظم انداز میں مکمل ہوا۔
پیپر لیک میں ملوث اساتذہ پر تنقید
مرکزی وزیر تعلیم نے پیپر لیک معاملے میں مبینہ طور پر ملوث اساتذہ پر بھی شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کا کام طلبہ کے مستقبل کی حفاظت کرنا تھا، وہی اگر اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہوں تو یہ انتہائی افسوسناک ہے۔
انہوں نے ایسے افراد کو ’’محافظ سے شکاری بن جانے والے لوگ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ تفتیشی ادارے معاملے کی مکمل چھان بین کر رہے ہیں تاکہ ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔
WHATSAPP
FACEBOOK
TELEGRAM
TWITTER
نیوز18اردو ہندوستان میں اردو کی سب سے بڑی نیوز ویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ برائے مہربانی ہمارے واٹس چینل کو لائیو، تازہ ترین خبروں اور ویڈیوز کے لئے فالو کریں۔آپ ہماری ویب سائٹ پر خبروں، تصاویر اور خیالات کے ساتھ ساتھ انٹرٹینمنٹ، کرکٹ جیسے کھیلوں اور لائف اسٹائل سے منسلک مواد دیکھ سکتے ہیں۔ آپ ہمیں، ایکس، فیس بک، انسٹاگرام، تھریڈز،شیئرچیٹ، ڈیلی ہنٹ جیسے ایپس پر بھی فالوکرسکتے ہیں۔
Tags: CJP , Dharmendra Pradhan , NEET UG
FIRST PUBLISHED : JUNE 23, 2026, 5:45 PM IST
Read More









