نئی دہلی: 15؍ستمبر (پریس ریلیز)جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے مدھیہ پردیش کے ضلع بالاگھاٹ میں متعدی بیماریوں کے پھیلنے سے 30 سے زائد قبائلی بچوں کی اموات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ دور دراز قبائلی علاقوں میں صحت عامہ، ویکسینیشن، غذائیت اور صحت کے نظام میں موجود سنگین خامیوں کو اجاگر کرتا ہے۔سلیم انجینئر نے کہا کہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے فوری اور مستقل اقدامات کی ضرورت ہے۔
پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ بعض گاؤں میں بچوں کی اموات کے بعد ہی انہیں طبی سہولیات فراہم کرنے کی اطلاعات ہیں۔ آشا کارکنوں کی خالی اسامیوں، طبی عملے کی کمی اور بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث بچوں کے گھروں میں ہی دم توڑ دینے کی اطلاعات سرکاری صحت عامہ کے نظام پر سنگین سوالات اٹھاتی ہیں۔بالاگھاٹ میں آشا کارکنوں کی 72 خالی اسامیوں میں سے 48 بیرسا بلاک میں ہیں۔ اس صورت حال کا شفاف جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ صرف ذمہ داری طے کرنے کے لیے نہیں بلکہ یہ بھی سمجھنے کے لیے کہ سسٹم کہاں ناکام ہوا اور یہ کہ مستقبل میں ایسی صورت حال دوبارہ پیدا نہ ہونے پائے۔
پروفیسر سلیم انجینئر نے قبائلی خاندانوں کی جانب سے روایتی طریقۂ علاج اختیار کرنے کا سارا بوجھ ان پر ڈالنے پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب طبی سہولیات پہنچ سے باہر ہوں ، طبی عملہ ناکافی ہو یا صحت کی خدمات تک رسائی مشکل ہو تو لوگ فطری طور پر انہی طریقۂ علاج کی طرف رجوع کرتے ہیں جنہیں وہ جانتے ہیں اور جن پر ان کا اعتماد ہے۔ اس مسئلے کا حل انہیں مورد الزام ٹھہرانا نہیں بلکہ صحت عامہ کا ایک ایسا نظام قائم کرنا ہے جو ان تک آسانی سے پہنچے، ان کا احترام کرے اور ان کا لیے قابل اعتماد ہو ۔پروفیسر سلیم انجینئر نے تجویز پیش کی کہ مدھیہ پردیش حکومت ایک خصوصی ’’ ٹرائبل چائلڈ ہیتھ مشن ‘‘ کی شروعات کرے ، جس میں محکمۂ صحت کے حکام، مقامی کمیونٹی اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کو ساتھ لیا جائے۔ اس مشن کے تحت گھر گھر جا کر صحت کی جانچ اور ویکسینیشن کے ساتھ غذائی معاونت، متعدی بیماریوں کی بروقت تشخیص اور شدید بیمار بچوں کو فوری طور پر طبی مراکز تک پہنچانے کا مؤثر نظام قائم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ تربیت یافتہ مقامی خواتین، کمیونٹی رضاکاروں ، آشا اور آنگن باڑی کارکنوں کو گاؤں کی سطح پر ایک ابتدائی وارننگ نیٹ ورک کے طور پر منظم کیا جائےجو بخار، خسرہ، دست یا بچوں کی اموات کے واقعات کی اطلاع فوری طور پر محکمۂ صحت کو دیں تاکہ یہ صورت حال وبائی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی قابو میں آ جائے۔ انہوں نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں موبائل میڈیکل ٹیموں کے دورے کئے جائیں جبکہ مقامی سطح پر ہنگامی نقل و حمل کے انتظام کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ شدید بیمار بچوں کو بغیر کسی تاخیر کے طبی مراکز تک پہنچایا جا سکے۔
پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ حکومت ہر کام اکیلے نہیں کر سکتی اور سول سوسائٹی کو بھی صرف تنقید کرنے کے لیے خاموش تماشائی نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم انتظامیہ اور مقامی افراد کے ساتھ صحت سے متعلق بیداری، ویکسینیشن کے لیے عوامی ترغیب، غذائی معاونت اور کمیونٹی کی سطح پر نگرانی کے کام میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے بچوں کی اموات کا آزادانہ اور شفاف جائزہ لینے کا بھی مطالبہ کیا اور مدھیہ پردیش حکومت پر زور دیا کہ وہ اس سانحے کو قبائلی علاقوں میں سرکاری صحت عامہ کے نظام کو مضبوط بنانے کے ایک موقع کے طور پر استعمال کرے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری صحت عامہ کے نظام کی اصل کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ وہ کسی سانحے کے بعد کتنی تیزی سے حرکت میں آتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ خطرے سے دوچار بچے تک وہ کتنی جلد پہنچتا ہے۔ ہر اس بچے کو جسے موت سے بچایا جا سکتا ہے۔ہمیں اس بات پر آمادہ کرے کہ ہم اپنے نظام کو مزید مضبوط، آسان اور انسان دوست بنائیں۔