لکھنو7اکتوبر:ہندوستان کے تاریخی و ممتاز تعلیمی ادارے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مہتمم اور بین الاقوامی سطح پر معروف عالم دین مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی انتقال کر گئے۔ ان کے سانحہ ارتحال سے برصغیر سمیت پورے عالم اسلام کے علمی، فکری اور تعلیمی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مولانا طویل عرصے سے علمی میدان میں سرگرم عمل تھے اور ندوۃ العلماء کے مہتمم کی حیثیت سے انتظامی و تربیتی امور کی باوقار انداز میں نگرانی کر رہے تھے۔
مولانا کے انتقال کی خبر نشر ہوتے ہی ملک و بیرون ملک سے علماء، دانشوروں، تعلیمی اداروں کے منتظمین اور سماجی رہنماؤں کی جانب سے گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے اساتذہ، طلبہ اور فارغین نے ان کے انتقال کو ناقابل تلافی خسارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پوری زندگی تعلیم و تربیت، دعوت دین اور نوجوان نسل کی اخلاقی تعمیر کے لیے وقف تھی۔ ان کی وفات محض ایک فرد کی جدائی نہیں بلکہ علم و فکر کے ایک زریں دور کا اختتام ہے۔
مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی نے ندوۃ العلماء کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد ادارے کے روایتی علمی وقار کو برقرار رکھتے ہوئے اسے عصری تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ وہ عربی زبان و ادب کے مستند اسکالر، سنجیدہ قلم کار تھے۔ انہوں نے طویل عرصے تک بین الاقوامی عربی مجلے کی ادارت سنبھال کر برصغیر کی فکری اور دینی شناخت کو عرب دنیا میں مضبوط بنیادوں پر متعارف کرایا، جبکہ انٹیگرل یونیورسٹی لکھنؤ کے چانسلر کی حیثیت سے بھی وہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں متحرک رہے۔