بھوپال:13؍جولائی:وزیرپنچایت و دیہی ترقیات اور محنت مسٹر پرہلاد سنگھ پٹیل نے سوچھ بھارت مشن (دیہی) کی جنرل باڈی کی میٹنگ میں کہا کہ صفائی صرف ایک مہم نہیں بلکہ مسلسل عوامی شمولیت اور منظم انتظام کا معاملہ ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ کچرا جمع کرنے اور اس کے تلف کرنے کے لیے واضح پالیسی تیار کی جائے اور پنچایت، بلاک اور کلسٹر سطح پر ذمہ داریوں کا واضح تعین کیا جائے۔ وزیر مسٹر پٹیل نے کہا کہ 10 ہزار سے زیادہ آبادی والی گرام پنچایتوں میں ٹھوس اور پلاسٹک فضلہ کے انتظام کو ترجیح دی جائے اور آئندہ 20 برسوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کچرا تلف کرنے کے انتظامات کیے جائیں۔ انہوں نے کچرا منتقل کرنے کے لیے گاڑیوں، ایجنسیوں اور انتظامی نظام کو بھی منظم بنانے پر زور دیا۔وزیر مسٹر پٹیل نے کہا کہ دیہی علاقوں میں اسکولوں، کالجوں اور دیگر اداروں کو کلسٹر پر مبنی صفائی کے نظام سے جوڑا جائے اور ڈسٹ بن کے مؤثر استعمال، “واش آن ویلز” ماڈل، اجتماعی صفائی مراکز اور گوبر دھن منصوبوں کے مؤثر نفاذ پر خصوصی توجہ دی جائے۔ انہوں نے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) فنڈ کا استعمال کچرا تلف کرنے کی اکائیوں کی ترقی میں کرنے، فضلہ، کیچڑ اور سیپٹیج مینجمنٹ کا مؤثر نظام تیار کرنے اور کھلے مقامات پر کچرا پھینکنے کی روایت کو مکمل طور پر ختم کرنے کی ہدایت دی۔ وزیر مسٹر پٹیل نے کہا کہ ادائیگی کے نظام کے لیے معیاری عملی طریقہ کار (SOP) بھی تیار کیا جائے۔
میٹنگ میں افسران نے بتایا کہ یکم اپریل سے ٹھوس فضلہ انتظامی قواعد نافذ کیے جا چکے ہیں اور ریاستی و ضلعی سطح پر کمیٹیوں کی تشکیل بھی کر دی گئی ہے۔ ریاست میں کچرا انتظام کے لیے ورک فلو مینجمنٹ سسٹم تیار کیا جا رہا ہے۔ “واش آن ویلز” مہم کے تحت 1,924 کلسٹروں میں کام جاری ہے اور 9 ہزار سے زیادہ پانی کی ٹینکیوں کی صفائی کی جا چکی ہے۔ اجلاس میں وزیر اعظم سوچھ بھارت مشن کے سالانہ اہداف، اجتماعی صفائی مراکز، گوبر دھن منصوبے اور پلاسٹک کچرا انتظام کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔