بھوپال:14؍اپریل:(پریس ریلیز)بروز منگل ، شام 5 بجے – بھوپال کے ادبی فلک پر افسانوں کی خوبصورت سی کہکشاں اس وقت سج گئی جب ہندی – اردو کے افسانہ نگاروں نے ہندی بھون کے مہا دیوی ورما ہال میں اپنے افسانے پڑھکر سنائے – ” آ کار ” لٹریری اینڈ کلچرل سوسائٹی بھوپال کی جانب سے منعقد سلسلہ کہانی کا “، کی یہ پانچویں نشست تھی –
اقبال مسعود نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ – کتھا ہندوستانی ادبیات کی روح ہے تمام اہم مقدس کتب کی بنیاد میں کہانیاں ہے- چاہے رامائن ہوں یا مہابھارت ہر جگہ کڑی در کڑی قصہ لہو بن کر دوڑ رہا ہے- آپ نے زور دے کر کہا کہ اسی قصہ پن کی ہم کو آج بھی ضرورت ہے اورہمیں فخر ہے کہ ہندی-اردو کہانی نے ماضی کی اس روایت کو زندہ رکھا ہے-ارملا سریش کی کہانی جسکا عنوان ‘’’دوپٹہ‘‘ تھا نے، سامعین کا دل جیت لیا – دار اصل دوپٹہ، کسی کپڑے کا محض ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہی نہیں ہے -بلکہ ہماری تہذیب تمدن کی ایک نشانی ہے – ایک عورت کے خوبصورت جسم کو نمائش سے بچاتا اور اسکی پسند ناپسند کی ترجمانی کرتا ہے – جہاں ایک عورت اسے ایک بندھن کی طرح مانتی ہے وہیں یہ دوپٹہ کسی مرد کی نظر میں عزت اور احترام کا متبادل ہے – دو مختلف خیالات اور نظریات سے پیدا ہوئے ٹکراو کو بیان کرتی یہ کہانی سماج کی ایک الگ ہی تصویر پیش کرتی ہے –
بدلتے ہوئے سماجی اقدار کے اس دور میں، رشتوں کی نوعیت اور انسانی شناخت کے سوالات پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ آسان ہوتی قربتوں کے باوجود ایک داخلی بے سکونی مسلسل بڑھتی محسوس ہوتی ہے۔
اسی تناظر میں ڈاکٹر نصرت مہدی نے اپنی فکر انگیز کہانی “نیو نارمل” پیش کی جس میں جدید طرزِ زندگی، بدلتے رشتوں اور فرد کی داخلی کشمکش کو نہایت حساس انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
شکیل خان کاافسانہ
کہانی کے مقبول کلاسیکی فارم میں بیان کیا گیا افسانہ ہے جو قربانی ,قسمت اور محبت کے دائرو میں گھو متا ایک حزنیہ پیشکش تھی جس میں ہمارے
معاشرے کے جیتے جاگتے پوٹریٹ تھے
مہمان خصوصی ششانک جی نے کہا کہ-
بیشک ہندی – اردو زبان کی کہانیاں ہندوستان کی تہذیب کی مشترکہ تہذیب کی ترجمانی کرتی ہیں – دوسرے اصناف کی طرح کہانی بھی ہندی – اردو ادب کی سانجھا اور سچی وراثت ہے – اسے زندہ رکھنے کے لئے ” آ کار ” لٹریری اینڈ کلچرل سوسائٹی بھوپال نے یہ جو کوشش کی ہے قابل تعریف ہے – یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں ایک ہی پلیٹ فارم پر مختلف کتھانکوں پر آدھا رت اچھی کہانیاں سن نے کو ملیں –
آج کے اس پرورام میں نظامت کے فرائض ملک محمود نےبہ حسن و خوبی انجام دئے – اپنے بہترین کلمات سے آپنے سبھی کو باندھے رکھا – استقبالیہ کلمات مظفر صدیقی نے ‘ آکار کا تعارف کراتے ہوئے پروگرام کی غرض و غایت پر روشنی ڈالی – اختتام تک تمام ہندی – اردو کے ادیب ، سامعین ، اخبارات کے مدیر اور رپورٹر موجود رہے –