اندور، 13 ستمبر: مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر جیتو پٹواری نے اندور پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاست کی خستہ حال تعلیمی صورتحال، بھرتی امتحانات میں بے ضابطگیوں، پیپر لیک اور سنگین بے روزگاری کے معاملے پر بی جے پی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو کسی نظریے کی تجربہ گاہ بنانے کے بجائے علم، تحقیق اور سائنسی سوچ کا مرکز ہونا چاہیے، لیکن حکومت بجٹ کے دعووں کے باوجود اسکولوں کی خستہ حالی، اساتذہ کی قلت اور امتحانی نظام میں بے اعتمادی کو ختم کرنے میں یکسر ناکام رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2020 سے اب تک ایم پی ای ایس بی کے ایک درجن سے زائد امتحانات بدعنوانی کی زد میں آئے اور نرسنگ سمیت تین امتحانات منسوخ ہوئے، جس کے باعث محنت کش نوجوانوں کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے اور تقریباً 30 لاکھ بے روزگار نوجوان دیگر ریاستوں میں ہجرت پر مجبور ہیں۔
جیتو پٹواری نے بتایا کہ 19 ستمبر کو اندور کے ریجنل پارک کے سامنے ’بھارت جوڑو میدان‘ میں ’چھاتروں کی گونج‘ کے عنوان سے ایک بڑا پروگرام منعقد ہوگا، جس میں پارٹی کے سینئر رہنما اور حزب اختلاف رہنما راہل گاندھی نوجوانوں کے ساتھ ایک گھنٹے تک براہِ راست مکالمہ کریں گے۔ انہوں نے انتظامیہ کی جانب سے میدان کے لیے طلب کی گئی 10 لاکھ روپے کی فیس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے، لیکن کانگریس نے یہ رقم آئی ڈی اے میں جمع کرا دی ہے کیونکہ یہ جلسہ سیاست سے بالاتر ہو کر طلبہ کے مسائل اٹھانے کا پلیٹ فارم ہے۔ اس موقع پر راجیہ سبھا رکن اشوک سنگھ، سابق وزیر سجن سنگھ ورما، شوبھا اوجھا، ستیا نارائن پٹیل، رینا بوراسی، چنٹو چوکسے، وپن وانکھیڑے، اندور میونسپل کارپوریشن کی حزب اختلاف رہنما سنیلا میمروٹھ، راجیش چوکسے اور امت چورسیا سمیت کانگریس کے متعدد رہنما موجود تھے۔