بھوپال:28؍اکتوبر:بھوپال میں کچرے کو آمدنی کا ذریعہ بنانے والی ایک انوکھی پہل لوگوں کی توجہ حاصل کر رہی ہے۔ یہاں گھروں بے کار پڑے پرانے اخبار، پلاسٹک، کتابیں اور دوسرے ری سائیکل ہونے والے سامان کو پھینکنے کے بجائے ان سے کھانے پینے کی چیزیں اور ضرورت کا سامان حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس پہل کا نام ہے ’کچرا کیفے‘، جس کا مقصد شہر میں صفائی کو فروغ دینے کے ساتھ لوگوں کو کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کی ترغیب دینا ہے۔ اس کیفے میں صرف پلاسٹک ہی نہیں بلکہ کئی طرح کا گھریلو کچرا قبول کیا جاتا ہے۔ اس میں پرانے اخبار، کتابیں، کاغذ، گتے کے ڈبے، ای-ویسٹ اور پرانے کپڑے جیسی چیزیں شامل ہیں۔
لوگوں کو ملنے والے پوائنٹس کا استعمال کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ روزمرہ کی ضرورتوں کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے۔ کیفے سے وابستہ پہل میں خواتین کے ’سیلف ہیلپ گروپس‘ کے ذریعہ تیار کردہ کپڑے کے بیگ، سجاوٹی سامان اور ماحول دوست مصنوعات کو بھی فروغ دیا جاتا ہے۔ کچرا کیفے کا ماڈل کافی دلچسپ ہے، یہاں لوگ گھروں سے اکٹھا کیا گیا خشک کچرا لے کر پہنچتے ہیں۔ سامان کا وزن اور اس کا زمرہ جانچنے کے بعد اس کے بدلے پوائنٹس یا کچرا کرنسی دی جاتی ہے۔ ان پوائنٹس کا استعمال کر کے لوگ کیفے سے کھانا، چائے، کافی اور دیگر دستیاب چیزیں لے سکتے ہیں۔ اس انتظام سے گھروں میں جمع بے کار سامان کو کارآمد وسائل میں بدلنے کا موقع ملتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ضرورت مند لوگ بھی کچرا جمع کر کے اس کے بدلے کھانا حاصل کر سکتے ہیں۔ اس سے صفائی کے ساتھ ساتھ سماجی مدد کو بھی فروغ ملتا ہے۔واضح رہے کہ بھوپال میں اس پہل کی شروعات 10 نمبر مارکیٹ سے ہوئی تھی۔ اس کے بعد بوٹ کلب اور بٹّن مارکیٹ جیسی جگہوں پر بھی کچرا کیفے شروع کیے گئے۔ میونسپل کارپوریشن کی اس پہل کا مقصد لوگوں کی روزمرہ کی عادتوں میں تبدیلی لانا اور کچرے کو وسائل کے طور پر دیکھنے کی سوچ کو فروغ دینا ہے۔ مجموعی طور پر کچرا کیفے یہ ظاہر کرتا ہے کہ مناسب انتظام اور لوگوں کی شراکت داری سے بے کار سمجھی جانے والی چیزوں کا بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ حالانکہ اس ماڈل کی کامیابی کا انحصار کچرے کو باقاعدگی سے الگ کرنے اور جمع کیے گئے سامان کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے پر ہوگا۔









