نئی دہلی 10اگست:’’راہل گاندھی کے وزیر داخلہ کو چٹھی لکھنے اور بہار کانگریس کے مظاہرہ کے بعد بہار حکومت نے طلبا کے اوپر سے مقدمہ واپس لینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ لیکن اس کے بعد بھی قصداً ان طلبا کے پرانے ریکارڈ نکال کر انھیں ٹارگیٹ کیا جا رہا ہے، جن کے اوپر پہلے کبھی مظاہرے کے دوران کوئی مقدمہ ہوا تھا۔‘‘ یہ بیان بہار میں مظاہرین طلبا پر ہوئے ظلم کی تحقیق کے لیے بنائی گئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے رکن اور کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے آج پریس کانفرنس کے دوران دیا۔ ساتھ ہی وہ بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتے ہیں ’’ہم بہار کے وزیر اعلیٰ سے کہنا چاہتے ہیں کہ طلبا پر بہانہ بنا کر ظلم کرنا بند کیجیے۔‘‘ میڈیا اہلکاروں کو عمران پرتاپ گڑھی نے بتایا کہ ’’بہار کے سیوان میں ہم فیکٹ فائنڈنگ ٹیم لے کر گئے تھے۔ حالانکہ پہلے سیوان کے معاملہ میں پولیس مکر رہی تھی، لیکن بعد میں اے کے-47 چلانے والے پولیس اہلکار کو معطل کیا گیا۔‘‘
انھوں نے بتایا کہ ’’آکاش کو کندھے پر، عارف کو گردن پر اور بلیٹ کمار گوڑ کے گھٹنے پر گولی لگی ہے۔ اگنی ویر کی تیاری کرنے والا بلیٹ کمار چیختا رہا، لیکن پولیس والوں نے اس کے گھٹنے پر 40 منٹ تک لاٹھی برسائی۔ یہ بہت شرمناک ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی جانکاری دی کہ ’’اس معاملہ میں ہم نے ڈی ایم-ایس پی سے بات کی اور انھیں بتایا کہ ان بچوں کو اے کے-47 کی نہیں، بلکہ پستول کی گولی لگی ہے۔ ایسے میں سوال ہے کہ یہ گولی کس نے چلائی؟‘‘ عمران کا کہنا ہے کہ یہ تینوں بچے بہت غریب کنبہ سے تعلق رکھتے ہیں، اور جب انھوں نے اپنے حق کی آواز اٹھائی تو انھیں گولی مار دی گئی۔ اس پریس کانفرنس میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے رکن بنائے گئے کم و بیش ایک درجن لوگوں نے اپنی باتیں رکھیں۔ کانگریس لیڈر جئے وردھن سنگھ نے کہا کہ ’’مجھے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے ذریعہ پٹنہ بھیجا گیا تھا۔
بہار کی بی جے پی حکومت نے طلبا تحریک کے بعد 117 طلبا کے نام جرائم پیشوں کی طرح پیپر میں شائع کیے، انھیں داغدار کیا۔ میرا سوال ہے کہ کیا ایسا کوئی اصول ہے، جس میں بے قصور طلبا کا چہرہ اخبارات میں شائع کر انھیں بغیر ثبوت مجرم قرار دیا جائے؟ اس کے لیے کون ذمہ دار ہے؟‘‘ کمیٹی کی ایک دیگر رکن راگنی نایک نے کہا کہ ’’دہلی اور بہار میں طلبا پر جیسی بربریت کی گئی، اس نے یہ دکھا دیا کہ بی جے پی حکومت نے بے حسی کی ساری حدیں پار کر دی۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’پورنیہ میں طلبا اور نوجوانوں نے مارچ کی اجازت مانگی۔ انھیں اجازت دی گئی، لیکن پھر انھیں گھیر کر مارا گیا اور سارے ویزوئل ہمارے پاس ہیں۔ اس واقعہ میں پولیس والوں نے اپنے ہی اصولوں کی دھجیاں اڑا دیں۔‘‘









