14 ستمبر کو پورے بھارت میں یومِ ہندی (ہندی ڈے) منایا جاتا ہے۔ 14 ستمبر 1949 کو دستور ساز اسمبلی نے ہندی کو یونین کی سرکاری زبان کے طور پر تسلیم کیا تھا۔ اسی تاریخی فیصلے کی یاد میں ہر سال 14 ستمبر کو ہندی ڈے منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہندی زبان کی اہمیت، اس کے فروغ اور اس کے وسیع استعمال کے عزم کا موقع ہے، لیکن بھارت جیسے کثیر لسانی اور کثیر تہذیبی ملک میں اس دن کو صرف ایک زبان تک محدود رکھنے کے بجائے تمام بھارتیہ زبانوں کے احترام اور تحفظ کے پیغام کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہئے۔
بھارت کی تمام زبانیں اس ملک کی مشترکہ تہذیبی میراث کا حصہ ہیں۔ ہندی ہو، اُردو ہو، بنگالی ہو، مراٹھی ہو، تمل ہو، پنجابی ہو یا کوئی دوسری بھارتیہ زبان، ہر زبان نے ملک کی سماجی، ادبی اور ثقافتی تاریخ کو اپنے اپنے انداز میں رونق بخشی ہے اور ملک کی خدمت کی ہے جس میں اُردو زبان سر فہرست ہے۔ اسی تناظر میں اردو کی اہمیت کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اُردو کو صرف کسی ایک مذہب یا طبقے کی زبان سمجھنا اس کی تاریخ اور بھارتی معاشرے میں اس کے کردار کو محدود کرنا ہے۔ اردوبھارت کی بیٹی اور ہندی کی بہن کہی جاتی ہے۔اُردو نے بھارت کی سرزمین پر ترقی پائی اور یہاں کے ادب، صحافت، تعلیم، شاعری، سماجی اصلاح اور تہذیبی زندگی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ہندی اور اردو کے درمیان بھی طویل عرصے سے لسانی اور تہذیبی رشتہ قائم رہا ہے۔ ہندی زبان نے اُردو سے الفاظ، محاورات اور اظہار کے انداز حاصل کئے ہیں ۔ دونوں نے بھارت کی مشترکہ تہذیب کو اپنی اپنی صورت میں بیان کیا ہے۔
اُردو کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ بھارت کی جنگ آزادی میں اس زبان نے قلم اور صحافت کے ذریعے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں اردو اخبارات اور رسائل نے انگریز حکومت کی پالیسیوں کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے اور عوام میں سیاسی شعور پیدا کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد کا ’الہلال‘ اور ’البلاغ‘، مولانا محمد علی جوہر کا ’ہمدرد‘ اور دیگر صحافتی و ادبی کوششیں آزادی کی جدوجہد کے اسی فکری سفر کا حصہ تھیں۔
حسرت موہانی کا نام بھی بھارت کی آزادی کی تاریخ میں اہم مقام رکھتا ہے۔ ان کی صحافت، سیاسی جدوجہد اور ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ بھارت کی آزادی کی تحریک کااہم حصہ ہے۔ اسی طرح اردو شاعری نے بھی آزادی، وطن دوستی، ظلم کے خلاف مزاحمت اور عوامی بیداری کے جذبات کو زبان دی۔ بہادر شاہ ظفر سے لے کر آزادی کی تحریک کے مختلف ادوار تک اُردو شاعری اور نثر نے بھارت کے سیاسی اور سماجی شعور کو متاثر کیا۔
میر تقی میر، برج نارائن چکبست ،مرزا غالب،بہادر شاہ ظفر، داغ دہلوی، الطاف حسین حالی، اکبر الہ آبادی، حسرت موہانی، علامہ اقبال، جوش ملیح آبادی، فراق گورکھپوری، جگر مرادآبادی، منشی نول کشور اور دیگر بے شمار شعرا ء اور ادباء نے اردو زبان و ادب کو اپنے فن سے مزین کیا۔ ان میں مختلف مذاہب اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے اہلِ قلم شامل تھے، جو اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ اردو کسی ایک مذہب یا طبقے کی زبان نہیں بلکہ بھارت کی مشترکہ تہذیبی میراث کا ایک اہم حصہ ہے۔ ان شعرا نے محبت، انسانیت، وطن دوستی، سماجی شعور اور مشترکہ تہذیب کے جذبات کو اپنی تخلیقات کے ذریعے فروغ دیا اور اردو کو بھارتیہ معاشرے کے جذبات و احساسات کی ایک مؤثر زبان بنایا۔کسی بھی زبان کو کسی بھی طرح سے زبردستی تھوپنے کی بات نہیں ہونا چاہئے، اور نہ ہی بھارت کے کسی بھی باشندے کو یہ احساس پیدا ہو کہ اُن پر ہندی کو تھوپا جا رہا ہے۔ خاص طور پر دکھن بھارت کے لوگوں کے اوپر، اس سے بھارت کی سالمیت پر برا اثر پڑے گا۔آج اُردو کیساتھ ساتھ علاقائی زبانوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ تاکہ بھارت کی آپس داری، گنگا جمنی تہذیب اور مضبوط ہو۔ ہر ایک صوبہ میں اُردو ، عربی ، فارسی یونیورسٹی /کالج کھولنے کی ضرورت ہے۔
آج سنسکرت زبان کو بولنے والے بھارت میں کتنے ہیں؟ ۲۰؍ سے ۲۲؍ ہزار ۔۔لیکن بھارت میںتقریباً ۱۸/۲۰ سے سنسکرت یونیورسٹیاں ہیں،یعنی تقریباً ۱؍ ہزار بولنے والوں پر ایک یونیورسٹی۔۔۔۔ مگر اُردو ، عربی اور فارسی کے لئے یہ انتظامات نہیں۔
آج اردو کے تحفظ اور فروغ کے لئے صرف جذباتی تقاریر کافی نہیں ہیں۔ کسی بھی زبان کی زندگی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ نئی نسل اسے کس حد تک پڑھتی، لکھتی اور روزمرہ زندگی میں استعمال کرتی ہے۔ اگر ہم اردو کو زندہ اور مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں تو گھروں میں بچوں کو اردو پڑھنے اور لکھنے کی ترغیب دینا ہوگی، اردو کی اچھی کتابیں خریدنی ہوں گی، اردو صحافت کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی اور نئی نسل کو اردو رسم الخط سے جوڑنا ہوگا۔ ڈیجیٹل دور میں اردو کے استعمال کو بڑھانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ہندی ڈے ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ کوئی زبان صرف سرکاری فیصلوں یا تقاریب سے زندہ نہیں رہتی۔ زبان اس وقت زندہ رہتی ہے جب معاشرہ اسے اپنی اگلی نسل تک منتقل کرتا ہے۔ جس طرح ہندی کے فروغ کے لئے اس کے بولنے اور لکھنے والوں کی ذمہ داری ہے، اسی طرح اردو کے تحفظ اور ترقی کے لئے اردو سے محبت کرنے والوں کو بھی عملی قدم اٹھانے ہوں گے۔
ہندی اور اردو کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنابھارت کی مشترکہ تہذیبی تاریخ کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ ہندی کا احترام اردو کی مخالفت نہیں اور اردو کا فروغ ہندی کے خلاف کوئی قدم نہیں ہے۔ دونوں زبانیں بھارت کی تہذیبی زندگی کی اہم علامتیں ہیں اور دونوں کو اپنے اپنے دائرے میں ترقی کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ 14 ستمبر کا ہندی ڈے اس لئے بھی اہم بن سکتا ہے کہ ہم ہندی کے ساتھ اردو سمیت بھارت کی تمام زبانوں کے احترام، تحفظ اور فروغ کا عہد کریں۔ زبانیں انسانوں کو تقسیم کرنے کے لئے نہیں بلکہ ایک دوسرے کے قریب لانے، جذبات کے اظہار اور تہذیب کو اگلی نسل تک پہنچانے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ اُردو کو اس کے تاریخی ورثے، ادبی عظمت اور جنگ آزادی میں اس کی خدمات کے مطابق عزت اور مقام دینا دراصل بھارت کی مشترکہ تہذیب اور گنگا جمنی تہذیب کا احترام ہے۔