گوہاٹی24جولائی: آسام میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور ریاست کے مختلف علاقوں میں لاکھوں افراد اس قدرتی آفت سے متاثر ہوئے ہیں۔ ریاستی حکومت کی تازہ رپورٹ کے مطابق 29 اپریل سے 23 جولائی کے درمیان سیلاب کے باعث 47 افراد کی جان جا چکی ہے، جبکہ 10 لاکھ 63 ہزار 216 سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ حکومت نے متاثرین تک راحتی سامان پہنچانے اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے جنگی پیمانے پر کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ریاستی حکومت متاثرہ خاندانوں تک کھانا، پینے کا صاف پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے جان و مال کا بڑا نقصان ہوا ہے اور حکومت چوبیس گھنٹے متاثرین کی مدد کے لیے کام کر رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست کے 25 اضلاع میں واقع 77 ریونیو سرکل اور 2,023 دیہات سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرہ افراد کی مدد کے لیے 162 راحتی کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جہاں 41 ہزار 264 افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف علاقوں میں 1,072 راحتی تقسیم مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں، جہاں ضروری امدادی سامان فراہم کیا جا رہا ہے۔ سیلاب سے ہونے والی اموات میں سب سے زیادہ 21 افراد ضلع شیوساگر میں جاں بحق ہوئے ہیں، جبکہ چرائدیو میں 10، جورہاٹ میں 8، دھیمجی میں 3، کاربی آنگلونگ اور گولاگھاٹ میں 2، 2 اور سونیت پور میں ایک شخص کی موت واقع ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ اب بھی 8 افراد لاپتا ہیں، جن میں 6 شیوساگر، ایک دھیمجی اور ایک چرائدیو سے تعلق رکھتے ہیں۔ سیلاب نے رہائشی مکانات کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 401 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جبکہ 1,856 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ ریاستی حکومت نے اب تک 28 ہزار 912 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے اور بچاؤ و راحت کی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔









