بھوپال:13؍ستمبر:وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ سندھی سماج کی جفاکشی، محنت اور اپنے مزاج سے سب کا دل جیتنے کی صلاحیت قابلِ تعریف ہے۔ سندھی سماج کے گزشتہ 80 سال کا وقت مشکلات اور جدوجہد سے بھرا رہا۔ سماج نے تقسیم کی ہولناکی جھیلی، جنم بھومی، گھر اور کاروبار چھوڑا، لیکن سماج کے لوگوں کا حوصلہ، دھرم اور سنسکار کبھی نہیں چھوٹے۔ چیلنجوں کو مواقع میں تبدیل کرکے اپنی شناخت اور وقار کو برقرار رکھنے والے سندھی سماج پر سبھی کو فخر ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ سندھی سماج میں فینکس پرندے کی مانند دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کی صلاحیت ہے۔ سماج نے اپنی اسی صلاحیت کی بنیاد پر اپنے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ سندھی سماج کی عظیم شخصیات جیسے راجا داہر، سنت کنور رام اور شہید ہیرو کالانی کی سوانح حیات کو اسکولی نصاب میں شامل کرکے ہم نے اپنا وعدہ نبھایا ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو بھوپال کے سندھ بھون میں منعقد ریاستی سندھی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے چراغ روشن کرکے پروگرام کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر رکن پارلیمنٹ مسٹرشنکر لالوانی، رکن اسمبلی مسٹربھگوان داس سبنانی، مدھیہ پردیش سندھ بھون ٹرسٹ کے صدر مسٹرراجیندرمنوانی، صوبائی سندھی کانفرنس کے پروگرام کنوینر مسٹرایشور جھامنانی سمیت بڑی تعداد میں سماج کے لوگ موجود تھے۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ سندھی سماج کے پاس تجارتی مہارت اور بزنس مائنڈ سیٹ ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی خدمت، تعلیم سمیت کئی شعبوں میں جدت طرازی کرنے کی صلاحیت ہے، سماج کے لوگ مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ ریاستی حکومت سندھی سماج کے حقوق کے تحفظ، سندھی زبان و ثقافت کے فروغ کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔ ہماری حکومت بات چیت کے ذریعہ مسائل کے حل پر یقین رکھتی ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے بھوپال کے ماسٹر پلان کے سلسلے میں کہا کہ ریاستی حکومت تاجروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے بیدار ہے، جو بھی بہترین حل ہوگا وہ کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ وزیر اعظم مسٹرنریندر مودی کے ایک ماہر منتظم کی حیثیت سے 25 سال مکمل ہونے پر ان کی سالگرہ 17 ستمبر سے ریاست میں سیوا سے سنکلپ ابھیان شروع کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ 50 لاکھ لوگوں کی مفت رجسٹری کرنے کا کام پوری ریاست میں ہو رہا ہے۔ اس عمل میں اسٹامپ ڈیوٹی ریاستی حکومت کی جانب سے ادا کی جائے گی۔ یہ رقم تقریباً 5 ہزار کروڑ روپے ہوگی۔ ملکیت کے حقوق کے ریکارڈ کے نفاذ کی مہم کے تحت پہلے مرحلے میں دیہی آبادی کو ان کی جائیداد کی رجسٹری کرکے محکمہ ریوینیو کے ذریعہ دستاویزات فراہم کیے جائیں گے۔ اگلے مرحلے میں شہری علاقوں کے پلاٹوں کی رجسٹریاں کی جائیں گی۔