نئی دہلی2اکتوبر: الیکشن کمیشن نے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے دوران ووٹر فہرست سے چھوٹ جانے والے اہل ووٹروں کے نام دوبارہ شامل کرنے کے لیے خصوصی مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ مہم ان ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں چلائی جائے گی جہاں ایس آئی آر کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ کمیشن نے پہلی بار ووٹ دینے والے اور نوجوان ووٹروں کے اندراج پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق بوتھ لیول افسران (بی ایل او) موجودہ ووٹر فہرست کا ایس آئی آر سے پہلے شائع ہونے والی فہرست کے ساتھ موازنہ کریں گے۔ اس کے بعد ایسے اہل ووٹروں کی فہرست تیار کی جائے گی جن کے نام موجودہ فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ بی ایل او ایسے ووٹروں کی موجودہ حیثیت معلوم کرنے کے لیے گھر گھر جائیں گے اور اہل پائے جانے پر ان سے فارم 6 بھروایا جائے گا۔ کمیشن نے بی ایل اوز کو ہر ہفتے کم از کم 20 سے 25 ایسے ووٹروں تک پہنچنے کا ہدف دیا ہے۔ اس پوری کارروائی کو تقریباً ایک ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ خصوصی مہم کے تحت پہلی بار ووٹ دینے والے اور نوجوان اہل شہریوں کے نام بھی ووٹر فہرست میں شامل کیے جائیں گے۔
تیار کی گئی فہرست اور فارم 6 کے ذریعے موصول ہونے والی درخواستیں تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے بوتھ لیول ایجنٹوں کے ساتھ بھی شیئر کی جائیں گی۔ کمیشن نے بوتھ سطح پر خصوصی کیمپ لگانے کی بھی ہدایت دی ہے۔ ضرورت کے مطابق نائٹ شیلٹرز، مزدور بستیوں، بے گھر افراد اور دیگر محروم طبقات کے لیے بھی خصوصی کیمپ منعقد کیے جا سکیں گے۔ یہ ہدایات یکم اکتوبر کو تمام چیف الیکٹورل افسران کے ساتھ الیکشن کمیشن کی میٹنگ کے بعد جاری کی گئی ہیں۔ کمیشن نے کہا ہے کہ ووٹر اندراج ایک مسلسل عمل ہے اور محض ایس آئی آر کے دوران نام شامل نہ ہو پانے کی وجہ سے کسی اہل شہری کو رجسٹریشن کے موقع سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔
اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر بعض افراد نے اسے الیکشن کمیشن کا ’یو ٹرن‘ قرار دیا ہے اور اسے دی انڈین ایکسپریس کی حالیہ رپورٹوں سے جوڑا ہے۔ تاہم ’’یو ٹرن‘‘ کی تعبیر ناقدین کی ہے، الیکشن کمیشن کے بیان میں اسے اس اصطلاح سے بیان نہیں کیا گیا۔
سینئر صحافی سہاسینی حیدر نے ایکس پر لکھا کہ دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹوں کے بعد کمیشن نے اب ان ووٹروں کے نام دوبارہ شامل کرنے کی کوشش شروع کی ہے جو فہرست سے باہر رہ گئے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ایسے ووٹروں کے ساتھ ہونے والے سلوک کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔









