بھوپال:19؍جولائی:وزیربرائیِ اعلیٰ تعلیم، تکنیکی تعلیم اور آیوش مسٹر اندر سنگھ پرمار نے کہا کہ وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی قیادت میں ریاستی حکومت اعلیٰ تعلیمی اداروں کو جدید بنیادی ڈھانچے، تحقیقی وسائل اور معیاری تعلیمی سہولیات سے مضبوط بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ تعلیمی ادارے بہترین شہریوں کی تعمیر کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ تعلیم کا مقصد صرف علم حاصل کرنا نہیں بلکہ باکردار، بااخلاق، فرض شناس، خوداعتماد اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار شہری تیار کرنا بھی ہے۔ ’’ترقی یافتہ بھارت @2047 ‘‘کا خواب اسی وقت حقیقت بنے گا جب ہماری نوجوان نسل بھارتی فکر پر مبنی علم، مہارت، تحقیق، اختراع اور اعلیٰ انسانی اقدار کے ساتھ ملک کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرے گی۔
مسٹر پرمار سرکاری موتی لال سائنس کالج میں محکمہ اعلیٰ تعلیم کے عالمی بینک پروجیکٹ کے تحت تقریباً 9 کروڑ روپے کی لاگت سے قائم حیوانیات، کیمیا، نباتیات اور طبیعیات کی جدید ترین تجربہ گاہوں کے افتتاح اور تقریباً 2 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی کالج کی باؤنڈری وال اور دو مرکزی داخلی دروازوں کے سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
مسٹر پرمار نے کہا کہ سال 2047 کا بھارت ایک ترقی یافتہ ملک ہونے کے ساتھ اپنے اسلاف کے علم، سائنس اور تحقیق کے ورثے کی بنیاد پر دنیا کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے والا اور پوری دنیا کی غذائی ضروریات میں قائدانہ کردار ادا کرنے والا ملک ہوگا۔ بھارت کی قدیم علمی روایت ہمیشہ انسانیت کی بھلائی کا راستہ ہموار کرتی رہی ہے اور مستقبل میں بھی دنیا کو سمت دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر بھارتی کے دل میں اپنے شاندار ماضی، ثقافت اور ورثے پر فخر کا جذبہ بیدار ہونا چاہیے۔ بھارت نے ریاضی، انجینئرنگ، فلکیات، طب، زراعت، فلسفہ اور سائنس سمیت متعدد شعبوں میں دنیا کو بے مثال علمی سرمایہ دیا ہے۔ آچاریہ چانکیہ اور سمراٹ چندر گپت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی نظامِ تعلیم نے ایسے معمارِ قوم پیدا کیے جنہوں نے عالمی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل بھارتی علمی روایت کو اپناتے ہوئے جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ آگے بڑھے۔
مسٹر پرمار نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 بھارت کی روح، ثقافت اور ضروریات کے مطابق تیار کی گئی ایک تاریخی تعلیمی پالیسی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اسی تعلیمی نظام کی بنیاد پر بھارت دوبارہ عالمی رہنما کی حیثیت حاصل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے مطابق معیار پر مبنی تعلیمی نظام کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ اعلیٰ تعلیم میں پہلے سال کے پہلے باب میں بھارتی علمی روایت کو شامل کیا گیا ہے۔
مسٹر پرمار نے سرکاری موتی لال سائنس کالج کو بھوپال کے قدیم ترین اور مدھیہ پردیش کے ممتاز تعلیمی اداروں میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ اس باوقار ادارے میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور تدریس کرنے والے اساتذہ دونوں خوش نصیب ہیں۔ اس ادارے نے برسوں سے ریاست اور ملک کو متعدد ممتاز سائنس دان، ماہرینِ تعلیم، منتظمین اور باصلاحیت شہری فراہم کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ باؤنڈری وال اور مرکزی داخلی دروازوں کی تعمیر کالج کی ترقی کی سمت میں ایک اہم کامیابی ہے۔ اس سے کیمپس کی حفاظت اور نظم و ضبط مزید مضبوط ہوگا۔ طلبہ، اساتذہ اور ملازمین کو محفوظ، منظم اور مثبت تعلیمی ماحول میسر آئے گا، جس سے کالج کی مجموعی ترقی کو نئی رفتار ملے گی۔ ایک محفوظ اور منظم کیمپس تدریس، تحقیق اور ہم نصابی سرگرمیوں کے لیے مزید سازگار ماحول فراہم کرے گا۔
مسٹر پرمار نے کہا کہ جدید ترین سائنسی تجربہ گاہوں کا افتتاح اعلیٰ تعلیم کے معیار کو نئی بلندیوں تک لے جانے والا اہم قدم ہے۔ ان تجربہ گاہوں میں طلبہ کو عملی تعلیم، سائنسی تحقیق، اختراع اور تحقیقی سرگرمیوں کے لیے جدید وسائل دستیاب ہوں گے۔ اس سے ان کی سائنسی سوچ، تحقیقی صلاحیت اور عملی مہارت میں اضافہ ہوگا اور وہ قومی و بین الاقوامی سطح کے مقابلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے کے قابل بن سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ معیاری تجربہ گاہیں طلبہ کو صرف مضمون کا علم ہی نہیں دیتیں بلکہ انہیں تحقیق، جستجو اور اختراع کی ثقافت سے بھی جوڑتی ہیں۔
مسٹر پرمار نے کہا کہ کالج انتظامیہ ادارے کی ترقی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق ضروری تجاویز حکومت کو بھیجے۔ طلبہ کے مفاد سے وابستہ ہر ضرورت پوری کرنا ریاستی حکومت کی اولین ترجیح اور عزم ہے۔
پروگرام کے دوران مسٹر پرمار نے نئی تجربہ گاہوں کا معائنہ بھی کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کالج کی سائنس واٹیکا میں شجرکاری کی۔ انہوں نے طلبہ اور اساتذہ سے خوشگوار ماحول میں گفتگو کرتے ہوئے انہیں تحقیق، اختراع، عمدگی اور قومی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔ مسٹر پرمار نے یقین ظاہر کیا کہ سرکاری موتی لال سائنس کالج آئندہ بھی معیاری تعلیم، سائنسی تحقیق اور اختراع کے میدان میں نئی کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے ترقی یافتہ مدھیہ پردیش اور ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرے گا۔
پروگراممیں کالج کی پرنسپل ڈاکٹر گیتا مودی، ڈاکٹر الکا پردھان، ڈاکٹر سنجے دکشت، ڈاکٹر اشوک شرما سمیت اساتذہ، ملازمین اور بڑی تعداد میں طلبہ موجود تھے۔