بھوپال 21اکتوبر: وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ وزیراعلیٰ جن وشواس ابھیان عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے شروع کیا گیا ابھیان ہے۔ حکومت کی ترجیحات میں شامل اس ابھیان کے تحت تمام افسران کو فیلڈ میں جانا ہی ہوگا۔ تمام افسران اس دن فیلڈ میں رہ کر زیادہ سے زیادہ عوامی مسائل کو موقع پر ہی حل کریں۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ اب وہ بغیر کسی اطلاع کے اچانک کسی بھی ضلع میں پہنچ کر وہاں جن وشواس ابھیان میں شامل ہوں گے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ جن اضلاع میں عوامی مسائل کے زیر التوا رہنے کی صورت حال برقرار ہے، وہاں کے کلکٹرز خصوصی کوششیں کرکے زیر التوا معاملات کی تعداد کم سے کم سطح پر لائیں۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو بدھ کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کلکٹرز، کمشنرز، ایس پی اور آئی جی کے جائزہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے جن وشواس ابھیان کے تحت سی ایم ہیلپ لائن میں سب سے زیادہ زیر التوا شکایات والے محکموں، یعنی محکمہ محصولات، محکمہ خواتین و اطفال کی ترقی، محکمہ خوراک و شہری رسد، محکمہ صحت عامہ و طب اور محکمہ صحت عامہ انجینئرنگ (پی ایچ ای) کے اعلیٰ افسران کو فوری طور پر محکمانہ صورت حال بہتر بنانے کی ہدایات دیں۔
جائزہ میٹنگ میں چیف سکریٹری مسٹر اشوک برنوال نے کہا کہ وزیراعلیٰ جن وشواس ابھیان میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ بعض کلکٹرز پوری سنجیدگی کے ساتھ کام نہیں کر رہے ہیں۔ یہ انتہائی قابل اعتراض ہے۔ کلکٹرز جن وشواس ابھیان میں اپنی کارکردگی کو فوری طور پر بہتر بنائیں اور فیلڈ میں جا کر عوامی مسائل حل کریں۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ملکیتی حقوق کے ریکارڈ کی تکمیل اور رجسٹریشن-2026 اسکیم کے تحت اہل مستفیدین کو ملکیت کا حق دے کر اعزاز سے نوازنے اور مفت رجسٹری کے لیے چلائی جا رہی خصوصی مہم کا بھی جائزہ لیا۔ بتایا گیا کہ اس اسکیم کے تحت 21 اکتوبر 2026 تک مجموعی طور پر 49 لاکھ 48 ہزار 980 پلاٹوں کی مفت رجسٹری کرنے کے ہدف کے مقابلے میں اب تک 1 لاکھ 60 ہزار 230 مفت رجسٹریاں کی جا چکی ہیں۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے رجسٹریشن کے لحاظ سے سرفہرست 3 سب رجسٹراروں، یعنی مسٹر راجیش تیواری (تحصیلدار، ریوا)، مسٹر سنجے مسرام (تحصیلدار، چھندواڑہ) اور مسٹر رنجیت کشواہا (تحصیلدار، شیوپوری) کو مبارک باد دی۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے صفر پیش رفت والے حلقوں کی معلومات ملنے پر ریوا، شہڈول اور دھار کے ضلع کلکٹرز کو فوری طور پر پیش رفت بڑھانے کی سخت ہدایات دیں۔
چیف سکریٹری مسٹر برنوال نے ملکیتی حقوق کی اسکیم میں سب سے کم پیش رفت والے 10 اضلاع کے کلکٹرز پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے فوری طور پر صورت حال بہتر بنانے کو کہا۔ انہوں نے کہا کہ جن پٹواری حلقوں میں کام شروع نہیں ہوا ہے، وہاں فوری طور پر کام شروع کرایا جائے۔

کم بارش کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے خصوصی لائحۂ عمل تیار کریں

وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ریاست کے 12 اضلاع میں معمول سے کم بارش ہونے کی معلومات ملی ہیں۔ متعلقہ کلکٹرز ان اضلاع میں کھیتی باڑی، پینے کے پانی، آب پاشی اور دیگر انتظامات کے لیے فوری طور پر خصوصی لائحۂ عمل تیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ ان اضلاع کے جن علاقوں میں سب سے کم بارش ہوئی ہے، وہاں خصوصی توجہ دی جائے۔ بتایا گیا کہ مدھیہ پردیش میں معمول کی بارش 949 ملی میٹر ہے، جبکہ اس سال حقیقی بارش 908.4 ملی میٹر ہوئی ہے۔ اس میں 4 فیصد کا فرق ہے۔ ریاست کے 34 اضلاع میں اس سال معمول کے مطابق بارش ہوئی ہے۔ ریاست کے 12 اضلاع، یعنی علی راج پور، دھار، جھابوا، رتلام، نرمداپورم، ہردا، بیتول، اندور، اجین، پانڈھورنا، شاجاپور اور چھندواڑہ میں معمول کی بارش کے مقابلے میں 19 فیصد سے کم بارش ہوئی ہے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ان اضلاع کے کلکٹرز سے گفتگو کرکے تمام افسران کو خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایات دیں۔