بھوپال، 29 جون: مدھیہ پردیش کانگریس میں وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو پر لگائے گئے 500 کروڑ روپے کی سرکاری زمین محض ایک روپے میں ٹرسٹ کو دینے کے الزامات پر پارٹی کے اندر ہی الگ الگ بیانات سامنے آئے ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ دگ وجے سنگھ نے پیر کے روز بڑوانی میں ایک بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ پی سی سی چیف جیتو پٹواری کو اس معاملے کی پوری معلومات نہیں تھی؛ انہوں نے وضاحت کی کہ جس ’ویر بھارت نیاس‘ نامی ٹرسٹ کو زمین دی گئی ہے، وہ کوئی نجی ادارہ نہیں بلکہ ایک مکمل سرکاری اور عوامی ٹرسٹ ہے جس کے پدین (عہدے کے اعتبار سے) صدر خود وزیراعلیٰ، نائب صدر وزیرِ ثقافت اور سکریٹری سرکاری ملازم ہوتے ہیں۔ دگ وجے سنگھ نے بتایا کہ انہیں بھی بی جے پی کے ہی ایک ایسے رکنِ اسمبلی نے یہ غلط معلومات دی تھی جن کی وزیراعلیٰ سے نہیں بنتی، لیکن جب انہوں نے رجسٹرار دفتر سے دستاویزات نکلوا کر جانچ کی تو سچائی سامنے آگئی، انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں کوئی بے ضابطگی نہیں ہوئی ہے اور جیتو پٹواری ان کے بیٹے کی طرح ہیں۔
دوسری طرف، بھوپال میں میڈیا سے بات چیت کے دوران صوبائی کانگریس صدر جیتو پٹواری نے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جو بھی کہا تھا وہ ایک سوال کی شکل میں تھا اور وہ سوال آج بھی برقرار ہے، اس لیے وزیراعلیٰ کو اس کا جواب دینا چاہیے، انہوں نے واضح کیا کہ دگ وجے سنگھ ان کے سینئر رہنما ہیں اور انہوں نے اپنے تجربے کی بنیاد پر بات رکھی ہے، اس لیے پارٹی میں کوئی تنازع نہیں ہے اور نہ ہی اس معاملے کی دہلی میں کوئی شکایت کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ 24 جون کو دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جیتو پٹواری نے الزام لگایا تھا کہ اجین میں کروڑوں کی زمین ایک روپے کے ٹوکن پر دی گئی ہے اور وزیراعلیٰ کے ثقافتی مشیر اس کے ٹرسٹیز میں شامل ہیں، جس پر اب دگ وجے سنگھ نے سرکاری دستاویزات دکھاتے ہوئے حکومت کا بچاؤ کیا ہے۔