بہار کے پورنیہ سے آزاد رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے وندے ماترم، ایس آئی آر ووٹر لسٹ ٹائم لائن، نکسل واد کو ختم کرنے کے حوالے سے نریندر مودی کے بیان اور رانچی طلبہ احتجاج پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ سے بات کرتے ہوئے ایس آئی آر کو لے کر پپو یادو نے کہا کہ ’’کس کی بات کی جا رہی ہے جس نے ایس آئی آر کے ذریعہ جمہوریت کو برباد کر دیا اور آئین کی بنیادی طاقت کو ختم کیا۔ اب بچا کیا ہے، حکومت تو زبردستی بنا لی گئی۔‘‘
’وندے ماترم‘ پر بی جے پی کی جانب سے سوال کھڑے کیے جانے پر پپو یادو نے کہا کہ ’’بی جے پی کو جو بولنا ہے وہ بولے گی۔ ہر آدمی کو آزادی ہے۔ ان کی جانب سے بچوں کو ڈرایا جاتا ہے۔ جس نے آئین کو نہیں مانا، رام کو بھگوان ماننے سے انکار کر دیا، وندے ماترم کے بارے میں اب ان کی طرف سے بولا جا رہا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ان کو سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ جین-زی نے ہندو-مسلمان اور پسماندہ و اعلیٰ ذات کے فرق کو ختم کر دیا۔ بی جے پی کے پاس مدعا نہیں ہے۔‘‘’نکسل واد‘ کو لے کر وزیر اعظم مودی کی تقریر پر پپو یادو نے کہا کہ کون ہے نکسلی؟ جین-زی کی تحریک کے بعد انہیں نکسلی کہاں نظر آیا۔ ہندوستان کے دانشور لوگوں کو گالی دی گئی ہے۔ ان کو معافی مانگنی چاہیے۔ رانچی میں جاری طلبہ احتجاج کے حوالے سے پپو یادو نے کہا کہ ’’اس معاملے پر راہل گاندھی کی جانب سے ایک بار نہیں 10 بار بولا جا چکا ہے۔ ان کی جانب سے بات چیت کی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ کی جانب سے کارروائی کی گئی۔ بی جے پی کے کہنے سے کچھ نہیں ہوگا کیونکہ بچے مطمئن ہیں۔‘









