بھوپال، 08 اکتوبر: الیکشن کمیشن کی جانب سے ایس آئی آر فیصلوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ووٹر لسٹوں سے ووٹرز کے نام کاٹنے کے خلاف مدھیہ پردیش کانگریس نے جمعرات کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ریاست بھر میں شدید احتجاجی مظاہرے کیے۔ بھوپال میں پردیش کانگریس صدر جیتو پٹواری، سابق وزیر اعلیٰ دگوجے سنگھ، لیڈر حزب اختلاف امنگ سنگھار، رکن اسمبلی عارف مسعود اور پی سی شرما کی قیادت میں بورڈ آفس چوراہے سے امبیڈکر مجسمے تک زبردست احتجاجی مارچ نکالا گیا۔ اس دوران رہنما اور کارکنان سڑک پر بیٹھ گئے اور لیٹ کر شدید نعرے بازی کی جس سے چوراہے پر ٹریفک معطل ہو گئی۔ پی سی سی صدر جیتو پٹواری نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے تک تحریک جاری رکھنے اور ریاست سے ایک لاکھ کارکنوں کے دہلی کوچ کا اعلان کیا، جبکہ سابق وزیر اعلیٰ دگوجے سنگھ نے اسے شہریوں کے جمہوری حقوق پر ڈاکہ قرار دیا۔
لیڈر حزب اختلاف امنگ سنگھار نے مرکزی حکومت پر جمہوریت کے قتل اور ملک کے 13 کروڑ ووٹرز کے ووٹ چوری کرنے کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی فرد کی نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی جنگ ہے جسے دبایا نہیں جا سکتا۔ احتجاج کے دوران اندور میں چیف الیکشن کمشنر کا پتلا نذرِ آتش کیا گیا، جبکہ ساگر میں کارکنان نے سیاہ لباس زیب تن کر کے اور ہاتھوں میں رسیاں باندھ کر مظاہرہ کیا۔ اٹارسی میں دہلی مظاہرے کے لیے جانے والے کارکنوں کو پولیس کی جانب سے ٹرین سے زبردستی اتارنے پر سخت تنازعہ اور کشیدگی پیدا ہو گئی۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ انتخابی کمشنروں کے اختلافی نوٹس کے باوجود چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے غیر آئینی فیصلے نافذ کیے جا رہے ہیں، جس کے خلاف پارٹی اپنی عوامی جدوجہد مزید تیز کرے گی۔