نئی دہلی 10جون: کانگریس کے ایک وفد نے راجیہ سبھا انتخاب کے لیے میناکشی نٹراجن کا پرچۂ نامزدگی مسترد کیے جانے سے متعلق معاملہ میں آج الیکشن کمیشن سے ملاقات کی۔ کانگریس لیڈران نے اس معاملہ میں الیکشن کمیشن سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز سے ملاقات کر ریٹرننگ افسر (آر او) کے فیصلے کو غیر قانونی، جانبدارانہ اور جمہوری اصولوں کے منافی قرار دیا۔ کانگریس جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے اس ملاقات کے بعد پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ پارٹی کے وفد میں ڈاکٹر ابھشیک منو سنگھوی، وویک تنکھا، رندیپ سنگھ سرجے والا، جے رام رمیش، دیپا داس منشی، بھوپیش بگھیل، میناکشی نٹراجن اور وہ خود شامل تھے۔ انہوں نے یہ بھی جانکاری دی کہ وفد نے الیکشن کمیشن کے سامنے اس معاملے سے متعلق تمام حقائق اور اعداد و شمار تفصیل سے پیش کیے اور نامزدگی مسترد کیے جانے کے فیصلے پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر کانگریس کے سینئر لیڈر اور ممتاز قانون داں ڈاکٹر ابھشیک منو سنگھوی نے کہا کہ پارٹی نے الیکشن کمیشن کے سامنے ایک مفصل نمائندگی پیش کی ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ریٹرننگ افسر کا حکم قانونی بنیادوں سے محروم اور سراسر غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندگی قانون کی دفعہ 33 اے واضح طور پر کہتی ہے کہ کسی امیدوار کے لیے صرف انہی فوجداری مقدمات کی تفصیلات ظاہر کرنا ضروری ہے جن میں 2 سال سے زیادہ سزا کی گنجائش ہو اور جن میں عدالت کی جانب سے باقاعدہ طور پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہو۔ ان کے مطابق فرد جرم عائد کرنا ایک عدالتی عمل ہے اور یہ صرف جج ہی انجام دیتا ہے۔ سنگھوی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی فوجداری معاملے میں سب سے پہلا مرحلہ نجی شکایت (پرائیویٹ کمپلینٹ) کا ہوتا ہے، جو بے بنیاد بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد مجسٹریٹ کی جانب سے شکایت کا نوٹس لینا ایک آزاد عدالتی عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میناکشی نٹراجن کو صرف عدالت میں حاضر ہو کر یہ وضاحت دینے کا نوٹس ملا تھا کہ شکایت پر نوٹس کیوں نہ لیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نوٹس ایسے مرحلے پر جاری ہوا تھا جب عدالت نے ابھی تک نوٹس نہیں لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی نظر میں نوٹس لیے بغیر کوئی فوجداری مقدمہ وجود میں نہیں آتا۔ محض کسی شخص پر الزام عائد کر دینا کافی نہیں ہوتا جب تک کہ عدالت اس پر باضابطہ طور پر نوٹس نہ لے۔









