بھوپال:13؍اکتوبر:وزیربرائے اعلیٰ تعلیم، تکنیکی تعلیم اور آیوش مسٹر اندر سنگھ پرمار نے یونیورسٹیوں میں خالی تدریسی عہدوں پر بھرتی کی کارروائی جلد مکمل کرنے اور پردھان منتری اعلیٰ تر شکشا ابھیان (پی ایم-اوشا) کے تحت مختص رقم کا مقررہ مدت میں استعمال یقینی بنانے کی ہدایات دی ہیں۔ وزیر مسٹر پرمار نے ڈیجیٹل جانچ کے منصوبے پر ترجیحی بنیاد پر عمل درآمد کرنے کو کہا۔ انہوں نے منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں پر وقت پر عمل درآمد کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تعلیمی نظام مضبوط ہوگا اور طلبہ کو معیاری تعلیم اور بہتر سہولتیں مل سکیں گی۔وزیر مسٹر پرمار کی موجودگی میں منگل کو وزارت کے اجلاس ہال میں محکمہ اعلیٰ تعلیم اور ریاست کی 17 سرکاری یونیورسٹیوں کے درمیان ڈیلیوری پارٹنرشپ ایگریمنٹ (DPA) پر دستخط کیے گئے۔ اس پہل کے ذریعے یونیورسٹیوں کی تعلیمی، انتظامی، مالیاتی اور ادارہ جاتی پیش رفت کا جائزہ مقررہ اہداف اور تصدیق شدہ کامیابیوں کی بنیاد پر لیا جائے گا۔ اس کا مقصد اعلیٰ تعلیم کے نظام میں معیار، شفافیت اور جواب دہی کو بڑھانا اور اداروں کو مسلسل بہتری کے لیے ترغیب دینا ہے۔پروگرام میں ایڈیشنل چیف سکریٹری اعلیٰ تعلیم مسٹر انوپم راجن، کمشنر اعلیٰ تعلیم مسٹر پرَبل سپاہا، ڈپٹی سکریٹری مسٹر لکشمی کانت کھرے سمیت محکمہ کے سینئر افسران اور متعلقہ یونیورسٹیوں کے رجسٹرار موجود تھے۔
ڈیلیوری پارٹنرشپ ایگریمنٹ کے تحت یونیورسٹیوں کی کارکردگی کا جائزہ 7 اہم شعبوں میں مقرر کردہ 46 اہم کارکردگی اشاریوں (KPIs) کی بنیاد پر لیا جائے گا۔ ان میں تعلیمی معیار اور قومی تعلیمی پالیسی 2020 پر عمل درآمد، بہتر حکمرانی اور ڈیجیٹل تبدیلی، تحقیق اور اختراع، ادارہ جاتی معیار، مالیاتی انتظام، روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی صلاحیت، طلبہ کی فلاح و بہبود اور پائیدار ترقی شامل ہیں۔
تعلیمی معیار کے جائزے میں تعلیمی کیلنڈر پر مقررہ وقت کے مطابق عمل، امتحانات کے نتائج وقت پر جاری کرنا، نصاب کو مقررہ مدت میں مکمل کرانا اور طلبہ کی کامیابی کی شرح میں بہتری جیسے نکات پر توجہ دی جائے گی۔ انتظامی کارکردگی کے لیے سمرتھ ای آر پی (SAMARTH ERP) کا مؤثر نفاذ، آن لائن طلبہ خدمات، ای آفس اور شکایات کا مقررہ وقت میں ازالہ بھی جائزے کا حصہ ہوں گے۔تحقیق اور اختراع کے شعبے میں معیاری تحقیقی اشاعتوں، بیرونی تحقیقی گرانٹس، تحقیقی منصوبوں، پیٹنٹ اور اساتذہ کی تربیت کو فروغ دیا جائے گا۔ ادارہ جاتی معیار کے تحت قومی تشخیص و توثیق کونسل (NAAC) سے منظوری، قومی ادارہ جاتی درجہ بندی کے فریم ورک (NIRF) میں شرکت اور تعلیمی تعاون کے ذریعے بہتری پر زور دیا جائے گا۔مالیاتی انتظام کے تحت منظور شدہ گرانٹ کا ضابطوں کے مطابق استعمال، استعمال کے سرٹیفکیٹ وقت پر پیش کرنا اور حسابات و آڈٹ سے متعلق ضابطوں کی پابندی کا جائزہ لیا جائے گا۔ طلبہ کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کی غرض سے پلیسمنٹ، انٹرن شپ، اپرنٹس شپ، ہنر مندی کے سرٹیفکیٹ، صنعتوں کی شراکت داری، اسٹارٹ اپ اور انکیوبیشن سرگرمیوں کو اہمیت دی جائے گی۔ اسی طرح اسکالرشپ سے مستفید ہونے والے طلبہ کا احاطہ، محروم طبقات اور طالبات کی تعلیمی تسلسل، شکایات کا ازالہ، جامع تعلیمی ماحول اور ماحول دوست کیمپس سے متعلق سرگرمیاں بھی جائزے میں شامل ہوں گی۔
تصدیق شدہ اعداد و شمار کی بنیاد پر اہداف طے ہوں گے
اس نظام میں تعلیمی سیشن 2025-26 کو بنیادی سال بنایا گیا ہے۔ یونیورسٹیوں کو اس مدت کی حقیقی کارکردگی سے متعلق اعداد و شمار اور ان کی تائید میں ضروری دستاویزات پیش کرنا ہوں گی۔ محکمہ اعلیٰ تعلیم کی جانب سے تصدیق کے بعد ہر یونیورسٹی کی بنیادی صورت حال طے کی جائے گی۔سال 2026-27، 2027-28 اور 2028-29 کے اہداف کے حصول کا جائزہ بنیادی سال کے تصدیق شدہ اعداد و شمار کے مقابلے میں لیا جائے گا۔ اس سے یونیورسٹیوں کی پیش رفت کا غیر جانب دارانہ اور شواہد پر مبنی جائزہ ممکن ہوگا۔ باقاعدہ جائزے کے دوران مقررہ اہداف کے حصول میں کمی پائے جانے پر مقررہ مدت کے اندر اصلاحی منصوبہ تیار کرنے پر بھی زور دیا جائے گا۔
معیار، جواب دہی اور طلبہ کے مفادات پر مرکوز پہل
ڈیلیوری پارٹنرشپ ایگریمنٹ یونیورسٹیوں کو اپنی کامیابیوں کا جائزہ لینے، بہتری کے ضرورت مند شعبوں کی شناخت کرنے اور واضح عملی منصوبہ تیار کرنے میں مدد دے گا۔ اس کے ساتھ ہی تدریسی عہدوں پر جلد بھرتی، پی ایم-اوشا کی رقم کا مقررہ وقت میں استعمال اور منظور شدہ ترقیاتی کاموں پر بروقت عمل درآمد اعلیٰ تعلیم کے نظام کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔کارکردگی پر مبنی اس نظام سے یونیورسٹیوں میں تعلیمی معیار، انتظامی کارکردگی اور وسائل کے بہتر استعمال کو فروغ ملے گا۔ ساتھ ہی طلبہ کو معیاری تعلیم، بہتر سہولتیں اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی سمت میں ادارہ جاتی کوششوں کو رفتار ملے گی۔









