نئی دہلی 14اپریل: کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے مغربی بنگال کے رائے گنج میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی دونوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ امبیڈکر کے یومِ پیدائش کے موقع پر بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین کو کمزور کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور نفرت کی سیاست کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی نظریات ملک میں تقسیم پیدا کر رہی ہیں اور جمہوری اداروں کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ براہ راست آئین پر حملہ ممکن نہیں، اس لیے مختلف اداروں میں مداخلت کے ذریعے جمہوریت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنی بھارت جوڑو یاترا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد نفرت کے خلاف اور محبت کے فروغ کے لیے ہے۔ اپنے خطاب کے دوران راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر امریکہ کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کو لے کر شدید تنقید کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں ہندوستان کا زرعی شعبہ امریکی کسانوں کے لیے کھول دیا گیا ہے، جس سے ملک کے چھوٹے کسانوں کو شدید نقصان ہوگا۔ ان کے مطابق ہندوستان کے کسان چھوٹے پیمانے پر کام کرتے ہیں جبکہ امریکہ میں بڑے پیمانے پر مشینی زراعت ہوتی ہے، اس لیے مقابلہ ممکن نہیں رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ توانائی کے شعبے میں بھی ہندوستان کی خود مختاری متاثر ہوئی ہے اور اب تیل کی خریداری میں امریکہ کا اثر بڑھ گیا ہے۔ راہل گاندھی نے ڈیٹا سکیورٹی پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا حساس ڈیٹا بیرون ملک منتقل کیا جا سکتا ہے، جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔