نئی دہلی 30جولائی:ایتھنول الاٹمنٹ معاملے میں کرناٹک ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف مرکزی حکومت کے وکیل اٹارنی جنرل (اے جی) نے سپریم کورٹ سے فوری سماعت کا مطالبہ کیا ہے۔ اے جی آر وینکٹ رمنی نے عدالت عظمیٰ کی تعطیلی بنچ سے کہا کہ اس معاملے پر فوری سماعت کی ضرورت ہے، بصورت دیگر اس کا اثر قومی پالیسی پر ہوگا۔ وینکٹ رمنی کے دلائل سن کر سپریم کورٹ نے بدھ کو اس معاملے پر سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ درخواست ایک آئل ریفائنری کمپنی نے دائر کی ہے۔ درخواست میں ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں تیل کمپنیوں کو وی آئی این پی نامی ایتھنول کمپنی کا الاٹمنٹ بڑھانے کا حکم دیا گیا تھا۔ پچھلے ہفتے کرناٹک ہائی کورٹ نے وی آئی این پی کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ تیل کمپنیوں کو وی آئی این پی سے زیادہ ایتھنول خریدنا چاہیے، یعنی اس کے الاٹمنٹ میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ اس کی ایتھنول کی خرید کو کم کیا جا رہا ہے جبکہ وہ ایتھنول کی سپلائی کے تمام معیارات پر پوری طرح کاربند رہتی ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا ہائی کورٹ میں پیش ہوئے تھے۔ دریں اثنا ایتھنول بیچنے والی وی آئی این پی کمپنی نے او ایم سی کو مدعا علیہ بنایا تھا۔ ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں او ایم سی سے 9.9 کروڑ لیٹر ایتھنول خریدنے کے لیے کہا تھا۔









