بھوپال:15؍ستمبر:وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی صدارت میں منگل کو منترالیہ میں وزراء کونسل کی میٹنگ منعقد ہوئی۔ وزراء کونسل نے ریاست کی ہمہ جہت ترقی، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی اور عوامی فلاح کو رفتار دینے کے لیے 42 ہزار 490 کروڑ روپے سے زیادہ کی تجاویز کو منظوری دی۔ وزراء کونسل نے معیاری اسکولی تعلیم کی توسیع کے لیے مرکزی حکومت کی جانب سے چلائی جانے والی ‘سمگر شکشا یوجنا’ کے آئندہ پانچ سالوں تک تسلسل کے لیے 36 ہزار 6 کروڑ روپے سے زیادہ کی منظوری فراہم کی۔ شہری سہولیات میں اضافے کے مقصد سے محکمہ ٹرانسپورٹ کی 11 اسکیموں کے لیے 1 ہزار 166 کروڑ روپے اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے مقصد سے محکمہ باغبانی کی 8 اسکیموں کے لیے 491 کروڑ روپے کے تسلسل کی توثیق کی گئی۔
آبی وسائل کے شعبہ میں اجین کے چتاود، سنگرولی کے گونڈ اور اشوک نگر کے چندیری آبپاشی پروجیکٹوں کے لیے 2 ہزار 600 کروڑ روپے سے زیادہ کی منظوری دی گئی، جس سے 1 لاکھ 27 ہزار ہیکٹر سے زیادہ رقبے میں آبپاشی کی صلاحیت پیدا ہوگی۔ انتظامی نظام کو مضبوط کرتے ہوئے نئے تشکیل دیے گئے اضلاع میہر، مئو گنج اور پانڈورنا میں معدنیات شاخ کے قیام کے لیے 21 نئے عہدوںاور انوپ پور و شہڈول کے اپ گریڈ کیے گئے اسکولوں کے لیے 36 عہدوںکی تخلیق کو منظوری دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی رکشا بندھن پر لاڈلی بہنوں کو 250 روپے کی اضافی خصوصی امداد دیے جانے کی توثیق اور مارک فیڈ کو 2,220 کروڑ روپے کا بلا سود قرض دینے کا بھی اہم فیصلہ لیا گیا۔
سمگر شکشا یوجنا کے تسلسل کے لیے 36,006.22 کروڑ روپے کی منظوری
کابینہ نے مرکزی حکومت کی جانب سے چلائی جانے والی سمگر شکشا اسکیم کو مالی سال 2026-27سے 2030-31تک مسلسل چلانے کے لیے 36,006.22 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔ سمگر شکشا یوجنا کا بنیادی مقصد ریاست میں معیاری تعلیم کی فراہمی اور طلباء کے سیکھنے کے نتائج میں اضافہ کرنا، اسکولی تعلیم میں سماجی اور صنفی امتیاز کو کم کرنا، اسکولی تعلیم کی تمام سطحوں پر مساوات اور شمولیت کو یقینی بنانا، اسکولی تعلیم کی فراہمی میں کم از کم معیارات کو یقینی بنانا، تعلیم کے ساتھ پیشہ ورانہ تعلیم کو فروغ دینا، مفت اور لازمی طفل تعلیم کا حق ایکٹ، 2009 کے نفاذ میں ریاست کی مدد کرنا اور اساتذہ کی تربیت کے لیے ایس سی ای آرٹی / ریاستی تعلیمی ادارے اور ڈائٹ کو نوڈل ایجنسیوں کے طور پر مضبوط اور اپ گریڈ کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عالمگیر رسائی، مساوات اور معیار، تعلیم کے ساتھ پیشہ ورانہ تعلیم کو فروغ دینا اور اساتذہ کی تعلیم کے اداروں کو مضبوط کیا جانا اس اسکیم کے اہم نتائج کے طور پر مقرر کیے گئے ہیں۔ سمگر شکشا یوجنا کے تحت پری پرائمری سے جماعت 12 تک زیرِ تعلیم 4 سے 18 سال کی عمر کے تمام زمروں کے طلبہ و طالبات کی تعلیم کی فراہمی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کی 11 اسکیموں کے تسلسل کے لیے 1,166 کروڑ 60 لاکھ روپے کی منظوری
کابینہ نے محکمہ ٹرانسپورٹ کے بہتر نفاذ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور شہری سہولیات کی توسیع کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ کے تحت چلنے والی ریوینیو اور سرمایہ جاتی اخراجات سے متعلق 500 کروڑ روپے سے کم کی اسکیموں کو 1 اپریل 2026 سے 31 مارچ 2031 تک مسلسل چلانے کے لیے مجموعی طور پر 1,166 کروڑ 60 لاکھ روپے کی منظوری دی ہے۔
منظوری کے مطابق فلائنگ اسکواڈ اور چیک پوائنٹ کے قیام کے اخراجات کے لیے سب سے زیادہ 377 کروڑ 41 لاکھ روپے اور ضلعی قیام کے اخراجات کے لیے 361 کروڑ 89 لاکھ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ کے ہیڈکوارٹر کے قیام کے اخراجات کے لیے بھی 120 کروڑ 10 لاکھ روپے اور ریاستی ٹرانسپورٹ اپیلیہ ٹریبونل کے کام کاج کے لیے 10 کروڑ 39 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ ڈیجیٹل خدمات اور بنیادی ڈھانچے کے تحت اسمارٹ کارڈ اسکیم کے مسلسل نفاذکے لیے 245 کروڑ 55 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ محکمہ کی دفتری عمارتوں کی نئی تعمیر کے کاموں کے لیے 30 کروڑ روپے اور موجودہ اثاثوں کی دیکھ بھال اور مرمت کے لیے تقریباً 5.50 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔سڑکوں کی حفاظت، عوامی مفاد اور خواتین کی حفاظت سے متعلق اسکیموں کو بھی تسلسل فراہم کیا گیا ہے۔ ماہر ڈرائیور تیار کرنے کے لیے ڈرائیونگ ٹریننگ سینٹروں کے قیام کے لیے 12 کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کی گئی ہے۔ دیہی علاقوں میں بہتر آمدورفت کے لیے ‘دیہی ٹرانسپورٹ پالیسی’ کے نفاذ کے لیے 2 کروڑ 50 لاکھ روپے، سڑک حادثات میں متاثرین کی مدد کرنے والے شہریوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ‘نیک شخص ایوارڈ کے لیے 1 کروڑ 25 لاکھ روپے اور عوامی سڑک ٹرانسپورٹ میں خواتین کی حفاظت (نربھیا فنڈ) کے لیے ضروری مالی انتظامات کو منظوری دی گئی ہے۔
باغبانی محکمہ کی 8 اسکیموں کے تسلسل کے لیے 491 کروڑ روپے کی منظوری
کابینہ نے باغبانی اور فوڈ پروسیسنگ محکمہ کی 8اہم ریاستی مالی اعانت سے چلنے والی اسکیموں کو آئندہ پانچ سالوں، یکم اپریل 2026 سے 31 مارچ 2031 تک مسلسل چلانے کی تجویز کو باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اس مدت کے لیے کل 491 کروڑ روپے کے مالی حجم کو منظوری دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ریاست میں کسانوں کی آمدنی بڑھانے، باغبانی فصلوں کے رقبے اور معیار میں بہتری لانے اور فوڈ پروسیسنگ یونٹوں کی حوصلہ افزائی کے مقصد سے لیا گیا ہے۔
منظور شدہ تجویز کے تحت پھلوں کے پودے لگانے اور مصالحہ جات کے علاقے میں توسیع کی اسکیم کے لیے سب سے زیادہ 100-100 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ محفوظ کاشت کو فروغ دینے کی اسکیم کے لیے 85 کروڑ روپے، فصل بیمہ اور فوڈ پروسیسنگ صنعتوں کی ترقی کے لیے 53-53 کروڑ روپے مقرر کیے گئے ہیں۔ مربوط کولڈ چین بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے 50 کروڑ روپے اور کسانوں کی تربیت اور محکمہ کے اثاثوں کی دیکھ بھال کے لیے 25-25 کروڑ روپے کا بجٹ منظور کیا گیا ہے۔اسکیموں کے مسلسل نفاذ سے ریاست کے کسانوں کو جدید کاشت کاری، گرانٹ، قدرتی آفات سے فصلوں کا تحفظ اور جدید تکنیکوں کا فائدہ مسلسل ملتا رہے گا۔ اسکیموں کے ہموار نفاذ کے لیے رہنما خطوط اور قواعد جاری کرنے کے لیے متعلقہ محکمہ کو مجاز بنایا گیا ہے۔
اشوک نگر کے چندیری مائیکرو آبپاشی پروجیکٹ کے تسلسل کے لیے 11 کروڑ 49 لاکھ روپے کی منظوری
کابینہ نے اشوک نگر ضلع میں واقع چندیری مائیکرو آبپاشی پروجیکٹ کو مالی سال 2026-27سے 2030-31تک جاری رکھنے کے لیے 11 کروڑ 49 لاکھ روپے کی منظوری دی ہے۔ محکمہ آبی وسائل کے تحت چندیری مائیکرو آبپاشی پروجیکٹ کا بنیادی مقصد مائیکرو آبپاشی نظام تعمیر کرکے اشوک نگر ضلع کے 28 ہزار ہیکٹر علاقے میں آبپاشی کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
سنگرولی کے گونڈ عظیم آبپاشی پروجیکٹ کے تسلسل کے لیے 749 کروڑ 62 لاکھ روپے کی منظوری
کابینہ نے سنگرولی ضلع کے گونڈ عظیم آبپاشی پروجیکٹ کو مالی سال 2026-27سے 2030-31تک جاری رکھنے کے لیے 749 کروڑ 62 لاکھ روپے کی منظوری دی ہے۔ محکمہ آبی وسائل کے تحت گونڈ عظیم آبپاشی پروجیکٹ کا بنیادی مقصد ڈیم تعمیر کرکے مائیکرو آبپاشی نظام کے ذریعہ سنگرولی ضلع کے 34 ہزار 500 ہیکٹر علاقے میں آبپاشی کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔
اجین کے چتاود عظیم آبپاشی پروجیکٹ کے تسلسل کے لیے 1846 کروڑ 5 لاکھ روپے کی منظوری
کابینہ نے اجین ضلع کی مہیدپور تحصیل کے قریب شپراندی پر چتاود عظیم آبپاشی پروجیکٹ کو مالی سال 2026-27سے 2030-31تک جاری رکھنے کے لیے 1,846 کروڑ 5 لاکھ روپے کی منظوری دی ہے۔ محکمہ آبی وسائل کے تحت چتاود بڑی آبپاشی پروجیکٹ کا بنیادی مقصد آبپاشی ڈیم تعمیر کرکے ذخیرہ کیے گئے پانی سے 65 ہزار ہیکٹر میں آبپاشی کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
میہر، مئو گنج اور پانڈورنا میں ضلعی دفتر (کان کنی شاخ) کے قیام کے لیے 21 نئے عہدوںکی منظوری
کابینہ نے نو تشکیل شدہ اضلاع میہر، مئو گنج اور پانڈورنا میں ضلعی دفتر (کان کنی شاخ) کے قیام کے لیے کان کنی افسر اور ملازمین کی ضرورت کے پیش نظر کل 21 عہدوںکی منظوری دی ہے۔ منظوری کے مطابق ہر ضلع میں 07-07 نئے عہدوںکی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے تحت ہر ضلع میں معدنیات افسر، اسسٹنٹ گریڈ 2، اسسٹنٹ گریڈ 3، اسسٹنٹ نقشہ نویس، سرویئر، سپاہی اور چپراسی کی ایک ایک آسامی شامل ہے۔
انوپ پور اور شہڈول میں اپ گریڈ کیے گئے 4 ہائی اسکولوں کے لیے 36 ریگیولر عہدوں کی منظوری
کابینہ نے انوپ پور اور شہڈول میں مڈل اسکول سے ہائی اسکول میں اپ گریڈ کیے گئے اور چلائے جا رہے 04 اسکولوں، کیلھوری، باڑی کھار اور بھالومارا ضلع انوپ پور اور نول پور ضلع شہڈول کے لیے ہائی اسکول کے پرنسپل کی 04، ثانوی استاد کی 24، پرائمری استاد کی 04 اور اسسٹنٹ گریڈ 3 کی 04، کل 36 ریگیولر عہدوں کی منظوری دی ہے۔
لاڈلی بہنا کو رکشا بندھن پر 250 روپے کی اضافی خصوصی مالی امداد دیے جانے کے فیصلے کی توثیق
کابینہ نے وزیراعلیٰ لاڈلی بہنا یوجنا 2023 کے تحت اسکیم کے مستحقین کو اگست 2026 کی مالی امداد کی رقم کے ساتھ رکشا بندھن کے موقع پر 250 روپے کی اضافی خصوصی مالی امداد فراہم کیے جانے کے سلسلے میں وزیراعلیٰ کے 20 اگست 2026 کو دیے گئے حکم اور اس کی تعمیل میں محکمہ کی جانب سے 24 اگست 2026 کو جاری کیے گئے حکم کی توثیق کی ہے۔
ربیع مارکیٹنگ سال 2024-25کے غذائی اجناس کی کریڈٹ حد کے قرض کی باقی رقم کی ادائیگی کے لیے
بلا سود قرض کی منظوری
کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ مدھیہ پردیش اسٹیٹ کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن کی ربیع مارکیٹنگ سال 2024-25کے غذائی اجناس کی کریڈٹ حد کے قرض کی باقی رقم 2,220.62 کروڑ روپے کی 30 ستمبر 2026 تک واپسی یقینی بنانے کے لیے 2,220.62 کروڑ یعنی دو ہزار دو سو بیس کروڑ باسٹھ لاکھ روپے مدھیہ پردیش اسٹیٹ کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن کو بلا سود قرض کی رقم فراہم کی جائے۔ بلا سود قرض کی ادائیگی محکمہ مالیات کی جانب سے ریاست کی نقد روانی/مالیاتی خسارے کی حد کو مدنظر رکھتے ہوئے دستیاب کرائی جائے گی اور قرض کی دیگر شرائط مدھیہ پردیش اسٹیٹ کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن (MARKFED) کی مالی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ مالیات کی رضامندی سے جاری کی جائیں گی۔
دیگر فیصلے
وزراء کونسل کو مدھیہ پردیش دیہی سڑک ترقیاتی اتھارٹی کی بااختیار کمیٹی کی 26 مئی 2026 کو منعقدہ 64ویں میٹنگ میں لیے گئے فیصلوں سے واقف کروایاگیا۔









