نئی دہلی11جون: شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کے 12 سالہ دورِ اقتدار پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس کی غیر جانب دارانہ جانچ یا آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان ’سامنا‘ میں شائع ہونے والے ایک اداریے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ موجودہ دور حکومت ہندوستان کی جمہوری اور انتظامی روایات سے ہم آہنگ نہیں رہا اور اس عرصے میں کئی اہم شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ اداریے میں ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس زمانے میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ جیسی اہم تعلیمی اور تحقیقی اداروں کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ شیو سینا کے مطابق اس دور کی ترجیحات میں قومی تعمیر، عالمی سطح پر ہندوستان کے وقار میں اضافہ اور سماج میں فرقہ وارانہ و مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا شامل تھا۔ اداریے میں الزام لگایا گیا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ، مرکزی تفتیشی بیورو، محکمہ انکم ٹیکس اور پولیس سمیت مختلف مرکزی ایجنسیوں کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس طرز عمل کے نتیجے میں آئینی ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور کئی خود مختار اداروں کی آزادی متاثر ہوئی۔ اداریے میں انتخابی کمیشن اور اعلیٰ عدالتی اداروں کی خود مختاری کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے شیو سینا نے دعویٰ کیا کہ اس عرصے میں ہندوستانی معیشت کمزور ہوئی، روپے کی قدر میں گراوٹ آئی اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھا۔ پارٹی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ قومی مفادات کو بعض بڑے صنعت کاروں کے حق میں استعمال کیا گیا۔
اداریے میں بے روزگاری، خواتین کے خلاف جرائم میں اضافے اور کسانوں کی خودکشی جیسے مسائل پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ ساتھ ہی یہ دعویٰ کیا گیا کہ ملک کے تقریباً 80 کروڑ افراد مفت راشن کی اسکیموں پر انحصار کر رہے ہیں۔