نئی دہلی:29؍اپریل(پریس نوٹ)معروف دانشور و مفکر پدم شری پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ آنے والی مردم شماری میں یہ تمام اردو بولنے والوں کا فرض ہے کہ وہ زبان کے خانے میں اردو کو اپنی مادری زبان کے طور پر لکھوائیں۔ اردو زبان صرف ایک بولی کا نام نہیں بلکہ وہ ہماری تہذیب اور ثقافت کی آئینہ دار ہے۔ اردو زبان میں ہم سب کا ،جن کا مذہب کوئی بھی ہو، مذہبی لٹریچر موجود ہے اور اس کی حفاظت کے لیے بھی یہ لازمی ہے کہ ہم اردو زبان کو وہ اہمیت دیں جس کی وہ واقعی مستحق ہے۔ پروفیسر واسع نے اردو والوں سے اس موقع پر یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو جس میڈیم میں تعلیم دلانا چاہتے ہوں، دلائیں لیکن اگر اردو ان کی پہلی ترجیحات میں نہیں ہے تو تیسری زبان کے طور پر اپنے بچوں کو اردو ضرور پڑھائیں اور خاص طور سےاپنے بچوں کے داخلے کے لیے ایسے اسکولوں کا انتخاب کریں جہاں پر کہ اردو کی تعلیم کا انتظام لازمی طور پر ہو۔
پروفیسر واسع نےکہاکہ اگر ہم مردم شماری کے موقع پر کوتاہی سے کام لیں گے تو اس سے اردو زبان اور اس میں پائے جانے والے تہذیبی اور ثقافتی اقدار کو غیر معمولی نقصان پہنچے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ ہر باشعور شہری کا فرض ہے کہ وہ مردم شماری کے موقع پر ہر قسم کی رو رعایت سے گریز کرے اور اردو کو اپنی مادری زبان کے طور پر ضرور درج کرائے۔









