بھوپال، 15 ستمبر: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکنِ پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نفاذ کی کوششوں کو ہندوستان کے تنوع، کثرت پسندی اور آئینی ڈھانچے کو ختم کرنے کی گہری سازش قرار دیا ہے۔ منگل کے روز بھوپال پہنچنے پر راجہ بھوج ایئرپورٹ پر پارٹی کارکنوں نے ان کا شاندار استقبال کیا، جس کے بعد انہوں نے سینٹرل لائبریری گراؤنڈ میں یو سی سی کے خلاف منعقدہ ایک بڑے عوامی جلسے میں شرکت کی۔ جلسے سے قبل اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے آئینِ ہند کی دفعات 14، 25، 26 اور 29 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کے مرتب کردہ دستور میں تمام شہریوں کو مساوات اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی دی گئی ہے، لہٰذا شہریوں کے بنیادی مذہبی حقوق کو سلب کر کے کوئی بھی قانون زبردستی نافذ نہیں کیا جا سکتا۔
اسد الدین اویسی نے واضح کیا کہ جس طرح منفرد ثقافت، روایات اور کسٹمری قوانین کی بنیاد پر قبائلی سماج کو یو سی سی کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے، بالکل اسی طرح مسلمانوں کی بھی اپنی ایک الگ مذہبی شناخت اور شریعت پر مبنی پرسنل لا موجود ہیں جن کا احترام ناگزیر ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یو سی سی کی آڑ میں دراصل غیر ہندوؤں پر ہندو میرج ایکٹ، ہندو سکسیشن ایکٹ، اور اڈاپشن اینڈ کسٹڈی ایکٹ جیسے قوانین تھوپنے کی دانستہ کوشش کی جا رہی ہے تاکہ دستور کی دفعہ 26 اور 29 کے تحت اقلیتوں کو حاصل حقوق چھین لیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ، گجرات اور آسام کے بعد اب مدھیہ پردیش میں بھی اس قانون کو لانے کی تیاری کی جا رہی ہے اور ان تمام ریاستوں کے مسودوں میں دفعات کے نمبروں کے سوا بنیادی طور پر کوئی فرق نہیں ہے۔
(بقیہ: صفحہ سات پر)









