تہران،23 مارچ (یواین آئی ) آسٹریلیا کے دورے سے وطن واپس پہنچنے والی ایرانی خاتون فٹبالر فاطمہ شعبان نےآسٹریلیائی پولیس اور حکام کے رویے کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات کر کے عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ آسٹریلیائی پولیس نے ایرانی کھلاڑیوں کو وطن واپس نہ جانے اور وہاں پناہ لینے کے لیے شدید ذہنی دباؤ کا نشانہ بنایا۔ایرانی مڈ فیلڈر فاطمہ شعبان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ واپسی سے قبل آسٹریلیائی پولیس نے ٹیم کے تمام اراکین کے پاسپورٹ قبضے میں لے کر تلاشی لی۔ انہوں نے بتایا”ہر کھلاڑی کو انفرادی طور پر ایک پولیس افسر کے ساتھ علیحدہ کمرے میں لے جایا گیا جہاں ہم سے انتہائی عجیب و غریب اور خوفزدہ کرنے والے سوالات کیے گئے۔ ہمیں یہ تاثر دیا گیا کہ ایران میں جنگی حالات ہیں اور ہمارا واپس جانا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
فاطمہ شعبان کے مطابق پولیس حکام نے انہیں اکسایا کہ وہ اپنی فیملیز سے فون پر بات کریں اور یہ فیصلہ کریں کہ آیا وہ واقعی ایران واپس جانا چاہتی ہیں یا آسٹریلیا میں ہی رکنا چاہتی ہیں۔ تاہم فاطمہ نے دو ٹوک جواب دیا کہ “جنہوں نے رکنا تھا وہ رک گئیں، ہم اپنے گھر واپس جا کر خوش ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ تہران ایئرپورٹ پر شاندار استقبال نے ثابت کر دیا کہ ان کا فیصلہ درست تھا اور انہیں ‘ایران کی بیٹی’ ہونے پر فخر ہے۔واضح رہے کہ دورہ آسٹریلیا کے دوران ایرانی فٹبالرز کو سیاسی پناہ کی پیشکش کی گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق ٹیم کی 7 کھلاڑیوں نے ابتدائی طور پر پناہ کی درخواست دی تھی، تاہم بعد ازاں 5 کھلاڑیوں نے اپنی درخواستیں واپس لے کر وطن واپسی کو ترجیح دی۔









