نئی دہلی، 29 مارچ (یو این آئی): چنئی سپر کنگز (سی ایس کے) کے لیے آئی پی ایل 2025 کا سیزن انتہائی مایوس کن رہا تھا، جہاں 14 میں سے صرف چار میچوں میں جیت کے نتیجے میں ٹیم پہلی بار پوائنٹس ٹیبل میں سب سے آخری نمبر پر رہی۔ اپنی تاریخ میں پہلی بار، دس بار فائنل کھیلنے والی یہ ٹیم لگاتار دو سیزن تک پلے آف میں جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ اگرچہ گزشتہ سیزن کے آخر میں آیوش مہاترے اور ڈیوالڈ بریوس کی شاندار بلے بازی نے مستقبل کے لیے امیدیں جگائی ہیں، اور اب سنجو سیمسن اور رتوراج گائیکواڈ کی موجودگی سے ٹاپ آرڈر کو استحکام ملا ہے، لیکن مڈل آرڈر میں اعتماد کی کمی اب بھی 2024 اور 2025 جیسی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔روایتی طور پر تجربہ کار کھلاڑیوں پر بھروسہ کرنے والی سی ایس کے نے دسمبر میں ہونے والی منی نیلامی میں نوجوان ہندوستانی بلے بازوں پر بڑا داؤ کھیلا۔ ٹیم نے ان کیپڈ کھلاڑیوں کارتک شرما (وکٹ کیپر) اور پرشانت ویر (آل راؤنڈر) کو 14.2 کروڑ روپے فی کھلاڑی کی بھاری رقم دے کر حاصل کیا۔ چھکے لگانے کی صلاحیت کے لیے مشہور ان دونوں کھلاڑیوں نے مجموعی طور پر 21 ٹی 20 میچوں میں صرف 18 اننگز کھیلی ہیں، جہاں کارتک شرما (اسٹرائیک ریٹ 162.92) نے 16 چوکوں کے مقابلے میں 28 چھکے لگائے ہیں، یعنی وہ اوسطاً ہر ساتویں گیند پر چھکا لگاتے ہیں۔ ان دونوں یا کسی ایک کی پلیئنگ الیون میں شمولیت شیوم دوبے کے کردار اور اپروچ کا تعین کرے گی، جو آئی پی ایل 2025 میں ہندوستان کے لیے ان کی حالیہ کارکردگی کے بالکل برعکس تھی۔شیوم دوبے ایک جدید ٹی 20 ٹیم کے لیے دو اہم ترین خصوصیات رکھتے ہیں: درمیانی اوورز میں اسپنرز کے خلاف جارحانہ بلے بازی اور آخری لمحات میں میچ پر اثر انداز ہونا۔ انہوں نے گزشتہ چند برسوں میں ہندوستانی جرسی میں ان دونوں کرداروں کو بخوبی نبھایا ہے، جس کی بہترین مثال رواں ماہ ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل اور فائنل کی اننگز ہیں۔تاہم، سی ایس کے کے لیے گزشتہ سال ان کی کارکردگی گراف نیچے گرا۔ 2022 سے 2024 کے درمیان آئی پی ایل میں ان کا اسٹرائیک ریٹ 159.16 تھا، جو 2025 میں کم ہو کر 132.22 رہ گیا۔









