واشنگٹن6نومبر: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو ایک بار پھر سخت انتباہ دیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ ایران کے باقی ماندہ حصوں کو بھی تباہ کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب، روس کے صدر ولادیمیر پوتن ایران کے ساتھ کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے ماسکو میں ایران کے سیکورٹی چیف محسن رضائی سے ملاقات کے دوران یقین دہانی کرائی کہ روس جنگ ختم کرانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ ایسے میں ایک طرف امریکہ کا دباؤ بڑھ رہا ہے، تو دوسری طرف ایران کو روس کی حمایت ملنے کی امید ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران ایران کے جوہری پروگرام پر گفتگو کی۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا ایران کے مذاکرات کار جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے امریکہ کی نئی تجویز پر غور کر رہے ہیں؟ اس پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران امریکہ کی منظوری کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ’وہ ہماری منظوری کے بغیر کچھ نہیں کر رہے ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کس تجویز پر غور کر رہے ہیں۔ انہیں جوہری ہتھیار نہیں بنانے دیے جائیں گے۔‘ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ جلد فیصلہ کرے گا کہ ایران کے خلاف مزید کارروائی کی جائے یا نہیں۔ انہوں نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر ممکن ہوا تو میں ملک کے باقی ماندہ حصوں کو تباہ نہیں کرنا چاہوں گا، لیکن شاید مجھے ایسا کرنا پڑے۔ آپ کو جلد ہی پتہ چل جائے گا۔‘ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ فروری میں شروع ہوئی امریکہ-اسرائیل – ایران جنگ کے بعد ایران کو دوبارہ کھڑا ہونے میں 25 سال لگ سکتے ہیں۔
تاہم، انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکہ آگے کس طرح کی کارروائی کرنے پر غور کر رہا ہے۔