نئی دہلی، یکم نومبر: ووٹ چوری کے خلاف آواز بلند کرنے اور انتخابی عمل کی شفافیت کا مطالبہ کرنے کے لیے اتوار کو دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں انڈیا اتحاد کی جانب سے منعقدہ ’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ مہاریلی میں غیر معمولی بھیڑ دیکھنے کو ملی۔ ملک کے مختلف حصوں سے ہزاروں کی تعداد میں پہنچنے والے لوگوں نے اس اجتماع کو ایک بڑے سیاسی مظاہرے کی شکل دے دی۔ ریلی کے دوران رام لیلا میدان ہی نہیں بلکہ اس کے اطراف کی سڑکیں، چوراہے اور فلائی اوور بھی نعروں سے گونجتے رہے۔ منتظمین اور شرکا کے مطابق کئی دہائیوں بعد دہلی کی سڑکوں پر کسی ایک سیاسی مسئلے کو لے کر اس قدر بڑے پیمانے پر عوامی حمایت دیکھنے کو ملی۔
ریلی کے آغاز سے پہلے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی، سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو، ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی، آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو، این سی پی (شرد پوار گروپ) کی رہنما سپریا سولے، نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ، شیوسینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کے رہنما سنجے راوت، سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجا، پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی اور سی پی ایم کے رہنما ایم اے بے بی سمیت مختلف جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں نے ایک بڑا مارچ نکالا۔
اس مارچ میں ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو، تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی اور کیرالہ کے رہنما وی ڈی ستیشن سمیت 20 سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ مارچ منٹو روڈ سے شروع ہوکر رام لیلا میدان تک پہنچا۔ سینئر رہنما کھلی گاڑیوں میں سوار تھے، جب کہ ان کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں کارکن اور حامی بھی چل رہے تھے۔ سڑک کے دونوں جانب لوگوں کی بڑی تعداد اپنے رہنماؤں کا استقبال کرنے کے لیے موجود تھی۔شرکا کی غیر معمولی تعداد کے باعث مارچ کو رام لیلا میدان تک پہنچنے میں تقریباً تین گھنٹے لگ گئے۔ جب مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما میدان میں قائم اسٹیج پر ایک ساتھ پہنچے اور ہاتھ اٹھا کر عوام کا استقبال کیا تو اپوزیشن اتحاد کی مشترکہ سیاسی طاقت کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ اس منظر نے وہاں موجود لوگوں کے جوش و خروش میں مزید اضافہ کردیا۔مہاریلی میں شرکت کے لیے ملک کے مختلف حصوں سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ ہفتے کی رات ہی سے شروع ہوگیا تھا۔ اتوار کی صبح ہوتے ہوتے رام لیلا میدان اور اس کے اطراف کے علاقوں میں لوگوں کی تعداد مسلسل بڑھنے لگی۔ میدان کے علاوہ قریبی سڑکوں، چوراہوں اور فلائی اوور کے آس پاس بھی لوگوں کا ہجوم دکھائی دے رہا تھا۔
پانچ کلو ہیروئن کے ساتھ دو اسمگلر گرفتار
امرتسر، یکم نومبر (یو این آئی) پنجاب پولیس کی کاؤنٹر انٹیلی جنس یونٹ نے منشیات کی اسمگلنگ کے ایک نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ ان کے قبضے سے پانچ کلوگرام ہیروئن برآمد کی گئی ہے۔
پولیس کے ڈائریکٹر جنرل گورو یادو نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پر بتایا کہ ابتدائی جانچ کے مطابق ملزمان نامعلوم ساتھیوں سے ہیروئن کی کھیپ حاصل کرکے پنجاب میں دیگر افراد تک اس کی سپلائی کرتے تھے۔
اس سلسلے میں امرتسر کے اسٹیٹ اسپیشل آپریشن سیل (ایس ایس او سی) تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پولیس اس نیٹ ورک کے آگے اور پیچھے کے رابطوں کا پتہ لگانے اور اس میں ملوث دیگر افراد کی شناخت کرنے کے لیے جانچ کر رہی ہے۔