غازی آباد،یکم نومبر: منی لانڈرنگ کیس میں مرکزی تفتیشی ایجنسی ای ڈی نے سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان کو آج غازی آباد کی پی ایم ایل اے عدالت میں پیش کیا، جہاں سے انہیں 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔ اعظم خان اب غازی آباد واقع ڈاسنا جیل میں رہیں گے۔ ای ڈی ذرائع کے مطابق اب اگلے ایک دو دن میں ای ڈی غازی آباد کی پی ایم ایل اے عدالت سے اعظم خان کی ای ڈی ریمانڈ کی مانگ کرے گی، جس کے بعد ای ڈی کو پولیس کسٹڈی (PC) ریمانڈ ملنے پر اعظم خان کو لکھنؤ لے جا کر پوچھ گچھ کی جائے گی۔
سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے سینئر رہنما اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ کو دو الگ الگ پین کارڈ بنوانے کے معاملے میں سزا معطل ہونے کے بعد ہفتے کے روز رام پور جیل سے رہا کر دیا گیا۔ تاہم ان کی رہائی سے پہلے ہی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی ایک ٹیم منی لانڈرنگ کے مبینہ معاملے میں اعظم خان سے پوچھ گچھ کرنے کے لیے رام پور پہنچ گئی اور رہائی کے فوراً بعد انہیں حراست میں لے لیا۔ جیل انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق اعظم اور عبداللہ کو شام کے وقت کافی گہما گہمی کے درمیان جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ اس دوران جیل کے باہر بڑی تعداد میں حامی موجود تھے، جو اعظم کی حمایت اور ای ڈی کی مخالفت میں نعرے لگاتے نظر آئے تھے۔
حکام کے مطابق جیل سے باہر نکلنے کے بعد ای ڈی کی ٹیم نے اعظم کو جوہر یونیورسٹی سے متعلق منی لانڈرنگ کے مبینہ معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا تھا۔ اعظم نے کہا تھا کہ انہیں مسلمان ہونے کی سزا مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ”غلطی یہ ہے کہ ایک مسلمان نے یونیورسٹی (جوہر یونیورسٹی) بنائی، بچوں کے لیے کالج بنائے۔“ رہائی کے بعد اعظم کے بیٹے عبداللہ نے میڈیا کے سوالوں کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔ اس دوران ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے اعظم کو جیل سے رہا ہوتے ہی ای ڈی کے ذریعے حراست میں لیے جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نامہ نگاروں سے کہا کہ ”بی جے پی سے انصاف کی امید نہیں کر سکتے۔









