بھوپال:یکم؍نومبر:وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ بہادری، قربانی اور شجاعت کی شاندار روایت رکھنے والا بالاگھاٹ ضلع معدنی دولت اور اپنے مخصوص کھان پان کے لیے ملک بھر میں مشہور ہے۔ بالاگھاٹ ضلع کی پہچان یہاں کے چنّور چاول سے ہے۔ اسی وجہ سے بالاگھاٹ کو مدھیہ پردیش کا ’دھان کا پیالہ‘ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے محنتی کسانوں نے اپنی ترقی پسندی کے ذریعے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ دھان کے ساتھ ساتھ کوڈو اور دیگر شری اَنّ کی پیداوار میں بھی اپنی الگ پہچان بنائی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ اس سال 60 لاکھ کوئنٹل دھان کی سرکاری خریداری کرکے بالاگھاٹ ضلع پورے صوبے میں اول مقام پر رہا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو اتوار کے روز وزیرِ اعلیٰ رہائش گاہ واقع سمَتو بھون سے بالاگھاٹ کی زرعی پیداوار منڈی، گونگلئی میں منعقدہ بلرام زرعی میلے سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کر رہے تھے۔ وزیرِ اعلیٰ نے پروگرام میں آئے ترقی پسند کسانوں اور زرعی اسکیموں کے انعام یافتگان سے خلوص کے ساتھ گفتگو کی اور انہیں مبارک باد اور نیک تمنائیں دیں۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ بالاگھاٹ ضلع کو نکسل ازم سے آزادی ملنے کے بعد یہاں کی ترقی کو نئی رفتار ملے گی۔ ہم سب مل کر کھیتی باڑی کو آگے بڑھائیں گے اور کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔بالاگھاٹ ضلع معدنی دولت سے مالا مال ہے۔ ملک کی 80 فیصد مینگنیز یہاں سے نکالی جاتی ہے اور ملاج کھنڈ میں تانبے کا وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ بالاگھاٹ کے چنّور چاول کی خوشبو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ یہاں کا چاول بیرونِ ملک بھی برآمد کیا جاتا ہے۔ ضلع میں سڑک، پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولتوں کی توسیع کے ساتھ دودھ کی پیداوار کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ بلرام زرعی میلہ ضلع کے زرعی نظام کو مضبوط بنانے اور کسانوں کی آمدنی بڑھانے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے بالاگھاٹ ضلع کے ترقی پسند کسانوں سے گفتگو بھی کی اور زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ریاستی حکومت کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کی معلومات دیں۔
2026 کو کسانوں کی فلاح و بہبود کے سال کے طور پر منایا جا رہا ہے
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے مدھیہ پردیش کے یومِ تاسیس اور دیوالی کے تہوار کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت اس سال کو کسانوں کی فلاح و بہبود کے سال کے طور پر منا رہی ہے۔ کسانوں کو قدرتی کھیتی اپنانے کی ترغیب دی جا رہی ہے، تاکہ کھیتی کو زیادہ پائیدار اور فائدہ مند بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ کسانوں سے امدادی قیمت پر دھان کی خریداری کے لیے رجسٹریشن کیا گیا ہے۔ بالاگھاٹ ضلع کے کچھ کسانوں کا رجسٹریشن رہ جانے کے سبب رجسٹریشن پورٹل 4 نومبر تک کھول دیا گیا ہے۔ جن کسانوں نے ابھی تک اپنا رجسٹریشن نہیں کرایا ہے، وہ 4 نومبر تک اپنا رجسٹریشن کرا سکتے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ وزیرِ اعظم مسٹر نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کسانوں کو وزیرِ اعظم کسان سمان ندھی کی رقم فراہم کر رہی ہے۔ ریاستی حکومت بھی کسانوں کو مالی امداد دے رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی لاڈلی بہنوں کو بھی مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈبل انجن حکومت کی وجہ سے عوامی فلاحی اسکیموں کا فائدہ لوگوں تک پہنچانا ممکن ہو رہا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ بالاگھاٹ ضلع میں بند ہو چکی 36 دودھ کی کوآپریٹو کمیٹیوں کو دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دودھ کی ترسیل کے راستے بنائے جا رہے ہیں، جس سے ضلع کے نکسل متاثرہ علاقوں میں بھی دودھ جمع کرنے کو فروغ ملے گا اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت بالاٹ ضلع میں روزانہ دودھ جمع کرنے کی مقدار 3,500 لیٹر سے بڑھ کر 10,000 لیٹر ہو گئی ہے۔ ریاستی حکومت کا ہدف اسے بڑھا کر روزانہ 50 ہزار لیٹر تک پہنچانا ہے، تاکہ دودھ کی پیداوار کو مزید فروغ مل سکے۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ بالاگھاٹ ضلع ریاست میں ماہی پروری کے شعبے میں سب سے آگے ہے۔ ضلع کے 15 ہزار مچھلی پالنے والوں کو کسان کریڈٹ کارڈ فراہم کرکے 9 کروڑ روپے سے زیادہ کا قرض دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دھرتی آبا گرام اْتکرش ابھیان کے تحت خراری آبی ذخیرے میں 94 کیج کلچر قائم کرکے 282 میٹرک ٹن مچھلی کی پیداوار کی گئی ہے۔ اس سے ضلع میں ماہی پروری کے امکانات کو فروغ ملا ہے اور کسانوں کے لیے آمدنی کے نئے مواقع دستیاب ہوئے ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ بالاگھاٹ ضلع کے 1 لاکھ 29 ہزار سے زیادہ کسانوں کو زراعت، مویشی پروری، ماہی پروری اور باغبانی کی سرگرمیوں کے لیے 876 کروڑ روپے کا بلا سود قرض دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ضلع کے 3 لاکھ 76 ہزار سے زیادہ کسانوں کو وزیرِ اعظم کسان سمان ندھی اسکیم کا فائدہ مل رہا ہے۔ انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ روایتی کھیتی کے ساتھ مویشی پروری، ماہی پروری اور باغبانی جیسی سرگرمیاں بھی اپنائیں، تاکہ ان کی آمدنی کے ذرائع بڑھیں اور معاشی حالت مضبوط ہو۔
نجی زمین پر شجر کاری کرکے کسان اپنی آمدنی بڑھا سکتے ہیں
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ریاستی حکومت نجی زمینوں پر شجر کاری کی بھی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ کسان اپنی نجی زمین پر بانس، ساگوان اور دیگر عمارت سازی میں استعمال ہونے والے درختوں کے پودے لگا کر اضافی آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔ ریاستی حکومت اس سمت میں بھی مسلسل کوششیں کر رہی ہے، تاکہ کسانوں کو زراعت کے ساتھ دیگر سرگرمیوں سے بھی مالی فائدہ حاصل ہو سکے۔ انہوں نے دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے مویشی پالنے والوں کے درمیان منعقد کیے جا رہے مقابلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس پہل کے حوالے سے مویشی پالنے والوں میں جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔ ایسی سرگرمیاں مویشی پروری کو فروغ دینے اور دودھ کی پیداوار بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گی۔
’وزیرِ اعلیٰ رجسٹری اسکیم‘ سے دیہی باشندوں کو زمین کی قانونی ملکیت کا حق ملے گا
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ’وزیرِ اعلیٰ رجسٹری اسکیم‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دیہی علاقوں میں آبادی کی زمین کی مفت رجسٹری کراکے اس کے مالکان کو دستاویزات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ریاستی حکومت اس اسکیم کے تحت مفت رجسٹری پر 10 ہزار کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس اسکیم کا مقصد دیہی علاقوں کے لوگوں کو آبادی کی زمین کے دستاویزات فراہم کرنا ہے، تاکہ بینک وغیرہ سے قرض لیتے وقت رہائشی زمین کے دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ آبادی کی زمین کی رجسٹری ملنے سے متعلقہ شخص کو زمین پر قانونی ملکیت کا حق حاصل ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپنی زمین اپنے بچوں کے نام بھی منتقل کر سکے گا۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ’وزیرِ اعلیٰ رجسٹری اسکیم‘ ریاستی حکومت کی اہم ترین اسکیموں میں سے ایک ہے اور اس کا فائدہ دیہات میں رہنے والے کسانوں اور عام شہریوں کو ملے گا۔
بلرام زرعی میلے کے دوران وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے بالاگھاٹ ضلع کے ترقی پسند کسانوں سے گفتگو کرکے ان کی زرعی سرگرمیوں، اختراعات اور آمدنی کے ذرائع کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
گاؤں پانڈے واڑہ کے کسان مسٹر ویدرام راہنگڈالے نے وزیرِ اعلیٰ کو بتایا کہ وہ مچھلی پالنے کا کام کرتے ہیں اور اپنے اس کاروبار کے ذریعے 30 لوگوں کو روزگار فراہم کر رہے ہیں۔ لانجی تحصیل کے گاؤں امیڑا کے کسان مسٹر مکیش نیوارے نے بتایا کہ وہ دھان کی کھیتی کے ساتھ سبزیوں کی پیداوار، ماہی پروری اور باغبانی کا کام بھی کرتے ہیں۔ اب انہوں نے مشروم کی پیداوار کا کام بھی شروع کر دیا ہے۔ گاؤں کوہکاڈیبر کی محترمہ منجو ناگپورے نے بتایا کہ وہ آتما پروجیکٹ اور ذریعہ معاش مشن سے وابستہ ہیں اور ڈرون دیدی کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ اس کام کے ذریعے انہیں 1.25 لاکھ روپے کی آمدنی ہو رہی ہے۔ گاؤں بگڑمارا کے کسان جیالال راہنگڈالے نے وزیرِ اعلیٰ کو بتایا کہ وہ قدرتی کھیتی کرتے ہیں اور اسی طریقے کو اپنا کر زراعت کر رہے ہیں۔ گاؤں گودما کے کسان مسٹر گلاب چودھری نے بتایا کہ وہ 30 ایکڑ زمین پر گیہوں کی فصل اگاتے ہیں اور اس سے 425 کوئنٹل پیداوار حاصل کرتے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے زرعی اسکیموں پر مبنی کوئز مقابلے کے تحت قرعہ اندازی کے ذریعے منتخب کیے گئے انعام یافتگان سے بھی گفتگو کی اور انہیں مبارک باد دی۔ مقابلے کے انعام یافتگان میں لامٹا تحصیل کے گاؤں کمہاری کی دیولا پٹلے کو ٹریکٹر، وارسونی تحصیل کے گاؤں ایکوڑی کے منوج ہرن کھیڑے کو بلٹ موٹر سائیکل اور گاؤں سکندرا کی کویتا شیوا کو ای اسکوٹی انعام میں ملنے والی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے تینوں انعام یافتگان کو مبارک باد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
بلرام زرعی میلے کے پروگرام میں بالاگھاٹ-سیونی کی رکنِ پارلیمنٹ محترمہ بھارتی پارذھی، رکنِ اسمبلی مسٹر گورو سنگھ پارذھی، اپیکس بینک کے چیئرمین مسٹر مہندر سنگھ یادو، مدھیہ پردیش پسماندہ طبقہ کمیشن کی رکن محترمہ موسم بیسن، میونسپل کونسل بالاگھاٹ کی صدر محترمہ بھارتی سورجیت سنگھ ٹھاکر، سابق وزیر مسٹر رام کشور کاورے، مسٹر کپل یاردے، مسٹر یشونت لہلارے، مسٹر کلپنا مرسکولے، مسٹر ستیہ نارائن اگروال سمیت بڑی تعداد میں کسان بھائی موجود تھے۔