بھوپال:27؍اکتوبر:وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی صدارت میں منگل کو منترالیہ میں کابینہ کی میٹنگ منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں ریاست کی ہمہ جہت ترقی اور انتظامی نظام کو مستحکم بنانے کے لیے 8,225 کروڑ روپے سے زائد کے مختلف ترقیاتی منصوبوں اور مالی تجاویز کو منظوری دی گئی۔ ریاست میں زرعی ترقی اور آبی وسائل کے بہتر انتظام کو ترجیح دیتے ہوئے چھندواڑہ، مرینا اور ساگر اضلاع کے بڑے آبپاشی منصوبوں کو مالی سال 2026-27 سے 2030-31 تک جاری رکھنے کے لیے 3,378 کروڑ 69 لاکھ روپے منظور کیے گئے۔ ان منصوبوں سے بڑے پیمانے پر آبپاشی کی سہولتوں میں اضافہ ہوگا۔کابینہ نے ماحولیات کے تحفظ اور متبادل شجرکاری کے کاموں کو تیز کرنے کے لیے معاوضہ جاتی شجرکاری فنڈ (کیمپا) سے 2,050 کروڑ 3 لاکھ روپے استعمال کرنے کی منظوری دی۔ عوامی صحت کی خدمات کو بلا تعطل جاری رکھنے کے مقصد سے محکمہ صحت عامہ اور طبی تعلیم کے لیے 1,743 کروڑ 58 لاکھ روپے اور سماجی انصاف و معذور افراد کی فلاح و بہبود کی اسکیموں کے لیے 651 کروڑ 25 لاکھ روپے منظور کیے گئے۔ انتظامی نظام کو مضبوط بنانے کے تحت نئے تشکیل شدہ اضلاع نواڑی، مئوگنج، پانڈھورنا اور میہر میں ضلع تعلیمی افسر کے دفاتر قائم کرنے، نئی اسامیاں پیدا کرنے، اقتصادی جرائم سیل کے کام کاج کو بہتر بنانے اور شہری رسد کارپوریشن سے متعلق گیہوں کی خرید و فروخت کی تجاویز کو بھی منظوری دی گئی۔
آبپاشی پروجیکٹوں کے لیے 3,378 کروڑ 69 لاکھ روپے منظور
کابینہ نے چھندواڑہ، مرینا اور ساگر کے آبپاشی پروجیکٹوں کو مالی سال 2026-27 سے 2030-31 تک جاری رکھنے کے لیے 3,378 کروڑ 69 لاکھ روپے منظور کیے۔ اس منظوری کے تحت چھندواڑہ آبپاشی کمپلیکس منصوبے کے لیے 2,611 کروڑ 13 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد چھندواڑہ ضلع کے 1,90,500 ہیکٹر رقبے میں ڈرپ اور اسپرنکلر نظام کے ذریعے کسانوں کے کھیتوں تک پانی پہنچانا ہے۔
اسی طرح پینچ ڈائیورڑن بڑے آبپاشی منصوبے کو جاری رکھنے کے لیے 197 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ڈیم تعمیر کرکے چھندواڑہ اور سیونی اضلاع میں زراعت کے لیے پانی فراہم کیا جائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد چھندواڑہ ضلع میں 1,26,647 ہیکٹر رقبے میں آبپاشی کی سہولت پیدا کرنا ہے۔مرینا ضلع میں چنٹی کھیڑا بڑے آبپاشی منصوبے کے تحت ڈیم تعمیر کرکے 15,300 ہیکٹر رقبے میں آبپاشی کا نظام تیار کرنے کا کام جاری ہے۔ اس منصوبے کو جاری رکھنے کے لیے 531 کروڑ 15 لاکھ روپے منظور کیے گئے ہیں۔
ساگر ضلع میں پنچمنگر آبپاشی کمپلیکس ایک بڑا آبپاشی منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت پگرا ڈیم اور پنچمنگر بیراج کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے۔ پگرا ڈیم سے پائپ لائن نظام کے ذریعے ساگر اور دموہ اضلاع کے 25,000 ہیکٹر رقبے میں آبپاشی کی جائے گی۔ پنچمنگر آبپاشی کمپلیکس کے کاموں کو جاری رکھنے کے لیے 39 کروڑ 41 لاکھ روپے منظور کیے گئے ہیں۔کابینہ نے معاوضہ جاتی شجرکاری فنڈ (کیمپا) کے تحت مالی سال 2026-27 کے سالانہ عملی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے 2,050 کروڑ 3 لاکھ روپے استعمال کرنے کی منظوری دی ہے۔
اس فنڈ کا استعمال گزشتہ برسوں میں کیے گئے کاموں کی دیکھ بھال، نقصان کی تلافی کے لیے شجرکاری، قدرتی مناظر اور زمینی حالات کی بنیاد پر تباہ حال جنگلات کی بہتری، دریاؤں کی بحالی کے لیے آبی ذخائر کے علاقوں میں شجرکاری، مٹی اور آبی وسائل کے تحفظ، دیہی باشندوں کی روزی روٹی کے لیے گاؤں کی سرحدوں سے متصل جنگلاتی علاقوں میں بانس سمیت مختلف اقسام کے درخت لگانے، جنگلی حیات کے محفوظ علاقوں میں واقع دیہات سے رضاکارانہ نقل مکانی، محفوظ علاقوں اور ان کے بفر زون میں جنگلی حیات کے مسکن کی ترقی، شہری جنگلات کے قیام، جنگلات اور جنگلی حیات سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنے اور دیہی باشندوں کی صلاحیتوں کو فروغ دینے جیسے کاموں پر کیا جاسکے گا۔
قابل ذکر ہے کہ جنگلات کے تحفظ اور فروغ کے قانون 1980 کے تحت مختلف ترقیاتی کاموں کے لیے جنگلاتی زمین کے استعمال میں تبدیلی کی تجاویز کو منظوری دی جاتی ہے۔ ایسی منظوری دیتے وقت حکومت ہند کی جانب سے مختلف شرائط عائد کی جاتی ہیں۔ ان شرائط کے مطابق متعلقہ اداروں سے معاوضہ جاتی شجرکاری، جنگلی حیات کے انتظام اور خالص موجودہ قدر (این پی وی) سمیت مختلف مدات میں رقم جمع کرائی جاتی ہے۔ ان شرائط کا بنیادی مقصد جنگلاتی زمین کے استعمال میں تبدیلی سے ہونے والے نقصان کی تلافی کرنا ہے۔ متعلقہ اداروں سے حاصل ہونے والی یہ رقم ریاست کے معاوضہ جاتی شجرکاری فنڈ (کیمپا) میں جمع کی جاتی ہے۔کابینہ نے محکمہ سماجی انصاف اور معذور افراد کو بااختیار بنانے کی مختلف اسکیموں کو مالی سال 2026-27 سے 2030-31 تک جاری رکھنے کے لیے 651 کروڑ 25 لاکھ روپے منظور کیے ہیں۔
اس منظوری کے تحت کمشنر برائے معذور افراد کے دفتر سے متعلق اسکیم کے لیے 6 کروڑ 34 لاکھ روپے، اندور کے سوالمبن مرکز، جس کا سابقہ نام بھکشک داخلہ مرکز اور ورکشاپ اسکیم اندور تھا، کے لیے 2 کروڑ 29 لاکھ روپے اور بصارت و سماعت سے محروم افراد کے اسکولوں اور اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز کے لیے 152 کروڑ 37 لاکھ روپے منظور کیے گئے ہیں۔اسی طرح مدھیہ پردیش ریاستی عام زمرہ فلاحی کمیشن کے کاموں کے لیے 6 کروڑ روپے، کلاپتھک اسکیم کے لیے 45 کروڑ روپے، رہنمائی اور انتظامی امور کے لیے 430 کروڑ 4 لاکھ روپے اور جامع سماجی تحفظ پروگرام سمیت دیگر متعلقہ اسکیموں کے لیے 9 کروڑ 21 لاکھ روپے منظور کیے گئے ہیں۔
کابینہ نے نئے تشکیل شدہ اضلاع نواڑی، مئوگنج، پانڈھورنا اور میہر میں ضلع تعلیمی افسر کے دفاتر قائم کرنے کے لیے مجموعی طور پر 68 نئی اسامیوں اور آؤٹ سورسنگ کے ذریعے 32 افراد کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس مقصد کے لیے 16 کروڑ 80 لاکھ روپے منظور کیے گئے ہیں۔منظوری کے مطابق ان چاروں اضلاع میں ہر ضلع کے لیے 17 نئی اسامیاں پیدا کی جائیں گی، جبکہ آؤٹ سورسنگ کے ذریعے ہر ضلع میں 8 افراد کی خدمات حاصل کی جاسکیں گی۔
کابینہ نے محکمہ عمومی انتظامیہ کے تحت عوامی مالی وسائل سے چلائی جانے والی اسکیموں میں اقتصادی جرائم سیل کی اسکیموں کو 16ویں مالیاتی کمیشن کی مدت، یعنی 1 اپریل 2026 سے 31 مارچ 2031 تک جاری رکھنے کے لیے 345 کروڑ 52 لاکھ روپے منظور کیے ہیں۔
اس منظوری کے تحت ملازمین کی تنخواہوں، الاؤنسز، دفتری اخراجات اور دیگر انتظامی امور کے لیے 327 کروڑ 52 لاکھ روپے، انتظامی عمارت کی تعمیر کے لیے 11 کروڑ روپے اور محکمہ کے اثاثوں کی دیکھ بھال کے لیے 7 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔کابینہ نے محکمہ قانون و قانونی امور کے اثاثوں کی دیکھ بھال سے متعلق اسکیم کو 16ویں مالیاتی کمیشن کی مدت، یعنی 1 اپریل 2026 سے 31 مارچ 2031 تک جاری رکھنے کے لیے 40 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔کابینہ نے محکمہ صحت عامہ اور طبی تعلیم کی رہنمائی اور انتظامی امور سے متعلق اسکیم کو 1 اپریل 2026 سے 31 مارچ 2031 تک جاری رکھنے کے لیے 1,743 کروڑ 58 لاکھ روپے منظور کیے ہیں۔ اس منظوری کا مقصد محکمہ کی متعلقہ اسکیموں اور انتظامی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھنا ہے۔
محکمہ خوراک، شہری رسد اور صارفین کے تحفظ کے تحت ربیع مارکیٹنگ سال 2020-21 میں 7 لاکھ میٹرک ٹن چمک سے محروم گیہوں کو ٹینڈر کے ذریعے فروخت کرنے کے لیے کی گئی کارروائی اور مدھیہ پردیش اسٹیٹ سول سپلائیز کارپوریشن کو مجاز قرار دینے کے فیصلے کو بعد از کارروائی منظوری دی گئی۔مدھیہ پردیش اسٹیٹ سول سپلائیز کارپوریشن کی جانب سے ربیع مارکیٹنگ سال 2020-21 کے دوران 2 لاکھ میٹرک ٹن اور 3.8 لاکھ میٹرک ٹن، اس طرح مجموعی طور پر 5.8 لاکھ میٹرک ٹن چمک سے محروم گیہوں کی ٹینڈر کے ذریعے فروخت کے لیے کی گئی کارروائی کو بھی بعد از کارروائی منظوری فراہم کی گئی۔