نئی دہلی23اکتوبر: ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف جمعہ کو دہلی سمیت ملک کے کئی شہروں میں کسانوں، طلبہ، نوجوانوں، مزدوروں اور مختلف تنظیموں نے احتجاجی مارچ نکالا۔ دہلی میں الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹر کی جانب مارچ کے دوران پولیس نے کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ علاقے میں پہلے ہی امتناعی احکامات نافذ کیے گئے تھے۔ ’پیپل اگینسٹ ایس آئی آر‘ کی دہلی رابطہ کمیٹی کی جانب سے منعقدہ اس مارچ میں مختلف طلبہ، نوجوانوں اور کسان تنظیموں کے کارکنوں نے حصہ لیا۔ مظاہرین قومی پرچم اور تنظیموں کے بینر لے کر مارچ میں شامل ہوئے۔ اس دوران ’گیانیش کمار استعفیٰ دو‘، ’ایس آئی آر روکو‘ اور ’ووٹ چوری برداشت نہیں کریں گے‘ جیسے نعرے لگائے گئے۔
مارچ میں سی پی ایم کی سینئر رہنما ورندا کرات، سماجی کارکن یوگیندر یادو، کسان تنظیموں، آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمنز ایسوسی ایشن (اے آئی ڈی ڈبلیو اے)، آل انڈیا یوتھ فیڈریشن اور آل انڈیا ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے آئی ڈی ایس او) کے ارکان نے شرکت کی۔
انقلابی یوتھ آرگنائزیشن (کے وائی ایس) اور اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) نے بھی احتجاج کی حمایت کی۔ مارچ میں دہلی، ہریانہ اور مغربی اتر پردیش کے کارکن شامل ہوئے۔ مارچ کا آغاز کالی باڑی مارگ اور بھائی ویر سنگھ مارگ کے چوراہے پر واقع گول ڈاک خانہ کے قریب سے ہوا۔ اس سے قبل بنگلہ صاحب گرودوارے کے آس پاس سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی اور دہلی پولیس کے ساتھ ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کے اہلکاروں کو بڑی تعداد میں تعینات کیا گیا تھا۔









