بنگلورو 23اکتوبر: کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک صنعت کار نے ان کے اور کیرلم کے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیشن کے خلاف ’اسٹنگ آپریشن‘ کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صنعت کار میٹا کے اسمارٹ گلاسز پہنے ہوئے تھا۔ کنڑ نیوز چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیے گئے ان انکشافات نے کرناٹک میں اسٹنگ آپریشن کو لے کر جاری سیاسی تنازعے میں ایک نیا موڑ پیدا کر دیا ہے۔ ڈی کے شیوکمار نے دعویٰ کیا ہے کہ ان سے ملاقات کے لیے آنے والے ایک صنعت کار نے ’میٹا اسمارٹ گلاسز‘ پہن رکھے تھے، جس سے انہیں شبہ ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے اس شخص کی سرگرمیوں اور دیگر سیاسی لیڈران کے ساتھ اس کی ملاقاتوں کے بارے میں معلومات جمع کرنا شروع کر دیں۔ کنڑ نیوز چینل ’ایشیا نیٹ سورنا نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے الزام لگایا کہ یہ واقعہ انہیں اور کانگریس کے دیگر لیڈران کو نشانہ بنانے کے لیے کیے جا رہے ایک بڑے اسٹنگ آپریشن کی تیاری کا حصہ تھا۔ ڈی کے شیوکمار نے یہ الزامات ایسے وقت میں لگائے ہیں، جب کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ سدارمیا سے متعلق مبینہ اسٹنگ آپریشن کی ویڈیو کو لے کر تنازعہ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ کانگریس اور اپوزیشن پارٹیاں ایک دوسرے پر الزام لگا رہی ہیں کہ ان ویڈیوز کے پیچھے کون ہے اور ان کا سیاسی مقصد کیا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہیں پھنسانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی، تو ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ حکام نے احتیاطی اقدامات کیے ہیں، لیکن وہ اس کی تفصیلات نہیں بتا رہے ہیں۔