نئی دہلی 19اکتوبر: ٹرین میں سفر کے دوران اونچی آواز میں فون پر بات کرنا یا ایئر فون کے بغیر ویڈیو اور موسیقی چلانا اب مسافروں کو مہنگا پڑ سکتا ہے۔ جنوبی ریلوے نے اس طرح کے رویے پر روک لگانے کے لیے اپنے تمام متعلقہ ڈویژنوں کو بیداری مہم چلانے کی ہدایت دی ہے۔ اس کا مقصد ٹرین میں سفر کرنے والے تمام مسافروں کو آرام دہ ماحول فراہم کرنا ہے۔ جنوبی ریلوے کی 6 اکتوبر 2026 کی ہدایت کے مطابق مسافروں سے کہا جائے گا کہ وہ اونچی آواز میں بات کرنے اور فون کے اسپیکر پر گانے یا ویڈیو چلانے سے گریز کریں۔ اس کے لیے ریلوے اسٹیشنوں اور ٹرینوں میں اعلانات کیے جائیں گے۔ مسافروں کو مقامی زبانوں کے ساتھ ہندی اور انگریزی میں بھی پیغامات دیے جائیں گے۔
ریلوے کی جانب سے تجویز کردہ پیغام میں مسافروں سے کہا گیا ہے کہ وہ سفر کے دوران فون پر دھیمی آواز میں بات کریں اور موسیقی سننے یا ویڈیو دیکھنے کے لیے ایئر فون کا استعمال کریں۔ ریلوے کا کہنا ہے کہ فون پر اونچی آواز میں بات کرنے یا اسپیکر پر گانے اور ویڈیو چلانے سے دوسرے مسافروں کی نیند اور آرام میں خلل واقع ہوتا ہے۔ ہدایت میں ریلوے ایکٹ کی دفعہ 145 کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے تحت ہنگامہ کرنے یا دوسرے مسافروں کے سفر میں خلل ڈالنے جیسے معاملات میں کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ہدایت میں 1000 روپے تک جرمانے اور 6 ماہ تک قید کا بھی ذکر ہے۔ حالانکہ کسی معاملے میں کارروائی اور سزا کا فیصلہ نافذ قانونی دفعات اور واقعے کے حالات کے مطابق ہوگا۔
جنوبی ریلوے نے چنئی، پلکڑ، ترووننت پورم، تروچیراپلی، مدورئی اور سلیم ڈویژنوں کے افسران کو اس ہدایت پر عمل کرنے کے لیے کہا ہے۔ مسافروں کو بیدار کرنے کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اعلانات کرنے کے ساتھ نوٹس بھی لگائے جائیں گے۔ ریلوے کا ماننا ہے کہ موبائل انٹرنیٹ اور ویڈیو ایپس کے بڑھتے استعمال کے باعث عوامی مقامات پر فون کے اسپیکر سے اونچی آواز میں کنٹینٹ چلانے کا مسئلہ بڑھا ہے۔ ایسے میں مسافروں کو دوسروں کی سہولت کا خیال رکھنے کے لیے بیدار کرنا ضروری ہے۔ واضح رہے کہ ریلوے بورڈ نے 23 جولائی 2012 کو بھی اس طرح کی شکایات پر ہدایت جاری کی تھی۔ اس وقت ریلوے کے ڈبوں، خاص طور پر اے سی کوچز میں موبائل پر اونچی آواز میں بات کرنے، طویل گفتگو کرنے اور اونچی آواز میں رنگ ٹون بجانے کی شکایات ملی تھیں۔ ریلوے بورڈ نے مسافروں کو فون سائلنٹ یا وائبریشن موڈ پر رکھنے، دھیمی رنگ ٹون استعمال کرنے اور اونچی آواز میں بات کرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا تھا۔









