سرینگر 18اکتوبر: ہریانہ کے کروشیتر کے قریب جموں و کشمیر جا رہی ایک پرائیویٹ بس پر پتھراؤ کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ اس حملے میں ایک بزرگ مسافر زخمی ہو گئے۔ اس واقعہ پر جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ناراضگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی اور ہریانہ پولیس سے معاملے میں کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی اور مسافروں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے کو کہا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کے دفتر نے جموں و کشمیر جانے والی ایک سلیپر بس پر کروشیتر کے قریب پتھراؤ کے واقعے کے سلسلے میں ہریانہ حکومت سے بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے قانون کے مطابق فوری اور سخت کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ عمر عبداللہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’جموں و کشمیر حکومت متاثرہ مسافروں کے ساتھ کھڑی ہے اور صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ جموں و کشمیر میں رجسٹرڈ ایک سلیپر بس پر کروشیتر کے قریب پتھر اور اینٹیں پھینکی گئیں، جس سے ایک بزرگ مسافر زخمی ہو گئے۔‘‘ نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے اس واقعے کو نفرت سے متاثر جرم قرار دیا۔
انہوں نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’’دہلی سے سری نگر جا رہی کشمیر کی ایک بس پر ہریانہ کے کروشیتر کے قریب پتھر اور اینٹیں پھینکی گئیں۔ یہ مبینہ طور پر نفرت سے متاثر حملہ تھا، جس میں کشمیر کا ایک بزرگ شخص زخمی ہو گیا۔ بس میں سوار خاندان اس واقعے سے بری طرح خوف زدہ ہو گئے اور خود کو بے بس محسوس کرنے لگے۔‘‘ انہوں نے اسے بے قصور لوگوں پر جان لیوا حملہ قرار دیا اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔