نئی دہلی18اکتوبر: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے اتراکھنڈ میں سرمایہ کاری کے دعووں کو لے کر وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کی قیادت والی بی جے پی حکومت پر نشانہ لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلوبل انویسٹرس سمٹ کے نام پر سرمایہ کاری کے بڑے بڑے دعوے کیے گئے، لیکن زمینی حقیقت ان دعووں سے مختلف ہے۔ راہل گاندھی نے اسے بی جے پی کے ’ڈبل انجن‘ ماڈل کی ایک اور مثال قرار دیا۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر نیوز لانڈری کی ایک ویڈیو اسٹوری شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اتراکھنڈ میں سرمایہ کاری کے نام پر دھامی حکومت نے فریب کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سرمایہ کاری کے دعووں کے پیچھے حقیقت کیا ہے اور حکومت کو سرمایہ کاروں کی مکمل فہرست عوام کے سامنے رکھنی چاہیے۔
راہل گاندھی کے مطابق، دسمبر 2023 میں منعقدہ گلوبل انویسٹرس سمٹ کے لیے 1779 مفاہمت ناموں (ایم او یو) کے ذریعے 3.56 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے معاہدوں کا اعلان کیا گیا تھا۔ ان معاہدوں کے لیے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے لندن، دبئی سمیت کئی شہروں میں روڈ شو کیے، جن پر آر ٹی آئی سے حاصل معلومات کے مطابق، عوام کے تقریباً 100 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ نیوز لانڈری کی رپورٹ کے مطابق، حکومت نے بعد میں تقریباً 3300 اداروں اور منصوبوں کے ذریعے ایک لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری زمین پر اترنے کا دعویٰ کیا۔ تاہم، رپورٹ میں اس فہرست میں شامل متعدد اداروں اور منصوبوں پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ایک لاکھ کروڑ روپے کی زمینی سرمایہ کاری میں سے 35279 کروڑ روپے، یعنی تقریباً 35 فیصد، سرکاری بجلی کمپنیوں یو جے وی این ایل اور ٹی ایچ ڈی سی انڈیا سے وابستہ منصوبوں کے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان میں سرکاری اداروں کے منصوبوں کو بھی سرمایہ کاری کے طور پر شمار کیا گیا، حالاں کہ سرمایہ کاروں کی سمٹ کا بنیادی مقصد نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہوتا ہے۔ نیوز لانڈری نے اپنی تحقیقات میں یہ بھی پایا کہ سرمایہ کاری کی فہرست میں آٹا چکیاں، کھاد اور بیج کی دکانیں اور چھوٹے کلینک شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق، کچھ لوگوں کو تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کے کاروبار کو سرمایہ کاروں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔