بنگلورو، 18 اکتوبر (یو این آئی) ہندوستانی ٹی-20 کپتان شریئس ایر نے کہا کہ سیریز کے آغاز میں ہندوستان کا پلڑا بھاری تھا، لیکن شائی ہوپ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہت آسانی سے رن بنائے اور سیریز 2-2 سے برابر رہی۔
بارش کے باعث پانچواں اور آخری ٹی-20 میچ ڈرا ہونے کے بعد کپتان شریئس ایر نے نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ اگر ہم نے دوسرے اور چوتھے میچ میں اچھی گیند بازی کی ہوتی، جن میں ہمیں شکست ہوئی، تو نتیجہ یقینی طور پر مختلف ہو سکتا تھا۔ پوری سیریز میں بلے بازی شاندار رہی۔ صرف میدان میں اپنی حکمت عملی کو صحیح طریقے سے نافذ کرنے میں کمی رہ گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہوپ کی کارکردگی بھی بہترین رہی۔ جس طرح وہ پوری سیریز میں آسانی سے رن بنا رہے تھے، وہ قابل تعریف تھا۔ کچھ مواقع پر یہ ضرور مشکل رہا، لیکن اس کا سہرا انہیں دیا جانا چاہیے۔
ہوپ نے 4 اننگز میں 261 رن بنائے، جن میں سے 204 رن انہوں نے 2 میچوں میں 95 گیندوں پر بنائے۔ شرفین ردرفورڈ بھی ان سے زیادہ پیچھے نہیں رہے۔ انہوں نے ویسٹ انڈیز کی پہلی جیت میں 37 گیندوں پر 84 رن بنائے اور اگلے میچ میں 26 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 49 رن کی اننگز کھیلی۔
ہوپ نے کہاکہ ہم جیت کے بہت قریب تھے۔ ہم نے کئی سال سے ایسا نہیں کیا تھا۔ سیریز میں اس مقام تک پہنچنا اور خود کو جیت کا اچھا موقع فراہم کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ایک ٹیم کے طور پر ہم کیا کر رہے ہیں۔ ہم یقینی طور پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ کامیابی کا مطلب ہمیشہ سیریز جیتنا ہی نہیں ہوتا۔ لیکن پوری ٹیم کے طور پر تمام کھلاڑیوں کو آگے بڑھتے ہوئے دیکھنا ایک اچھا تجربہ ہے۔
سیریز کے بہترین کھلاڑی منتخب کیے گئے ہوپ نے ٹی-20 سیریز میں جم کر رن بنائے۔ اس سے پہلے یک روزہ سیریز میں بھی انہوں نے 3 اننگز میں 278 رن بنائے تھے، جس میں ویسٹ انڈیز کی واحد جیت کے دوران 143 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 162 رن کی اننگز شامل تھی۔
انہوں نے کہاکہ آپ کو خود پر اعتماد برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ سچ کہوں تو جب بھی میں میدان میں اترتا ہوں، چاہے گزشتہ 2، 3، 4 یا 5 اننگز میں رن نہ بنے ہوں، پھر بھی مجھے یقین رہتا ہے کہ میں اپنا کام کر سکتا ہوں۔ یہی چیز مجھے آگے بڑھاتی ہے اور زمین سے جڑے رہنے میں مدد کرتی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ سنچری یا بڑا اسکور بنانے کے بعد بھی اگلے میچ میں مجھے صفر سے شروعات کرنی ہوگی۔ اس لیے میرا طریقۂ کار کبھی نہیں بدلتا۔ میں جہاں تک ممکن ہو، خود کو غیر جانب دار رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مجھے اپنی صلاحیت پر بھروسہ ہے کہ میں اپنا کام کر سکتا ہوں، کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ میں اچھی تیاری کرتا ہوں۔ اس لیے میں چیزوں کو فطری انداز میں ہونے دیتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ جب میدان میں انہیں عملی جامہ پہنانے کا وقت آئے گا تو نتیجہ میرے حق میں ہوگا۔
ویسٹ انڈیز کے کپتان نے کہاکہ ‘ہم ہمیشہ یہی بات کرتے ہیں کہ دباؤ کے لمحات میں کھلاڑی اپنے ہنر پر بھروسہ رکھیں۔ شَمار جوزف نے آکر جس طرح آخری اووروں میں گیند بازی کی اور اہم وکٹ حاصل کئے، وہ ہمارے لیے بہت بڑا فرق ثابت ہوا۔ کیمو پال نے بھی بالکل یہی کام کیا۔ پھر روسٹن چیز ہیں، جو کئی برسوں سے مسلسل گیند کے ساتھ ہمارے لیے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ مختلف مواقع پر ہر کسی نے اپنا تعاون دیا۔ شرفین نے بھی ٹی-20 میں اپنی لے برقرار رکھی۔ گیند بازوں کو اپنی حکمت عملی پر پوری طرح عمل کرتے دیکھنا اطمینان بخش تھا۔
اگرچہ کاغذ پر سیریز 2-2 سے برابر رہی، لیکن نتیجے کے لحاظ سے یہ ہندوستانی کپتان شریئس ایر کے لیے یقیناً مایوس کن ہوگا۔ تاہم، اس دورے سے ٹیم کو کچھ مثبت چیزیں بھی حاصل ہوئیں۔
مثبت پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے ایر نے کہاکہدباؤ میں ہم نے جس طرح واپسی کی، وہ سب سے اہم بات رہی۔ ہمارا ماننا تھا کہ جارحانہ کرکٹ کھیلیں اور اپنے کھیل کا معیار بلند رکھیں۔ کچھ مواقع پر ہم اس میں کامیاب بھی رہے، لیکن ہر میچ میں یہ تسلسل دکھائی نہیں دیا۔ بہرحال، سیکھنے کے لحاظ سے یہ سیریز بہترین رہی اور کئی اچھی چیزیں سامنے آئیں۔