نئی دہلی 14اکتوبر: میرٹھ کے مشہور ’نیلا ڈرم قتل واقعہ‘ میں آخر کار 19 ماہ اور 11 دن بعد عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ سوربھ راجپوت کا بے رحمی سے قتل کرنے کے معاملہ میں اس کی بیوی مسکان رستوگی اور اس کے عاشق ساحل شکلا کو عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی ہے۔ میرٹھ کے ضلع جج اروند کمار مشرا نے دونوں قصورواروں کے لیے موت کی یہ سزا مقرر کی۔ سزا پر بحث کے دوران سرکاری وکیل نے دونوں کے لیے پھانسی کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ فریق دفاع نے مسکان اور ساحل کی 2 بیٹیوں کا حوالہ دیتے ہوئے موت کی سزا نہ دینے کی اپیل کی تھی۔قابل ذکر ہے کہ اس معاملہ کی سماعت کے دوران جج نے قصوروار ساحل سے پوچھا تھا کہ کیا اس نے قبل میں بھی کبھی کوئی جرم کیا ہے، جس پر ساحل نے واضح لفظوں میں انکار کر دیا تھا۔ جب عدالت نے اسے سزا کے نکتہ پر اپنی بات رکھنے کا موقع دیا تو ساحل نے کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا۔
عدالت کے ذریعہ مسکان اور ساحل کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد سوربھ کے گھر والوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ سزا سنائے جانے سے قبل متاثرہ کنبہ نے کہا تھا کہ اکثر ملک میں ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں، جہاں شادی شدہ خواتین اپنے عاشقوں کے ساتھ مل کر شوہروں کا قتل کر رہی ہیں۔ ایسے میں مسکان اور ساحل کو پھانسی کی سزا ملنے سے سماج میں سخت پیغام جائے گا اور جرائم پیشوں میں قانون کا خوف پیدا ہوگا۔ پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد فیملی نے کہا کہ ان کا بیٹا اب لوٹ کر واپس نہیں آئے گا، لیکن قاتلوں کو پھانسی ملنے پر ہی اس کی روح کو صحیح معنوں میں سکون ملے گا۔ آج جب میرٹھ کورٹ نے مسکان اور ساحل کو موت کی سزا سنائی، تو اس دوران دونوں ملزمین جیل سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ جڑے تھے۔ ساتھ ہی کورٹ روم میں مہلوک سوربھ راجپوت کی ماں رینو راجپوت اور ان کے بھائی موجود تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سزا سنائے جانے سے عین قبل صبح کے وقت مسکان کے والدین نے عدالت میں تحریری شکل میں دیا تھا کہ اگر ان کی بیٹی کو پھانسی بھی دی جاتی ہے تو انھیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ ساتھ ہی مسکان کے گھر والوں نے سوربھ کو ایک بہت ہی اچھا لڑکا بتایا تھا۔ بہرحال، سماعت کے دوران عدالت نے ’مہابھارت‘ کا ذکر کیا اور کہا کہ ’’سزا دینا بھی مذہب ہے۔‘‘ سزا کا اعلان کیے جانے کے بعد عدالتی کمرے میں ’بھارت ماتا کی جئے‘ کا نعرہ بھی سننے کو ملا۔









