نئی دہلی14اکتوبر: انڈین یوتھ کانگریس نے بدھ کو راجدھانی میں جنتر منتر پر پُرامن احتجاج کا حق بحال کرنے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کے ساتھ مارچ نکالا۔ پولیس نے پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے کے قریب مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا اور کئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ یوتھ کانگریس کے قومی صدر اُدے بھانو چِب کی قیادت میں مارچ پٹیل چوک میٹرو اسٹیشن سے شروع ہوا اور جنتر منتر کی جانب روانہ ہوا۔ اس مہم کو ’جنتر منتر واپس لاؤ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ چِب نے کہا کہ جنتر منتر ملک کے عوام کا ہے اور جمہوری حقوق و آئینی آزادیوں کی علامت ہے۔ ان کے مطابق شہریوں کو کسی خوف یا من مانے پابندیوں کے بغیر اپنے مسائل اٹھانے کا حق ملنا چاہیے۔ یوتھ کانگریس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پُرامن احتجاج جمہوریت کا بنیادی اصول ہے اور شہریوں کو اپنی آواز بلند کرنے کے لیے مقررہ عوامی مقامات تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ تنظیم نے اعلان کیا کہ جنتر منتر کو مظاہروں کے لیے دوبارہ کھولنے کی مہم جمہوری اور آئینی طریقے سے جاری رہے گی۔ بیان کے مطابق پولیس کی رکاوٹ اور کارکنوں کی حراست سے یہ جدوجہد ختم نہیں ہوگی۔
یہ مارچ ایسے وقت میں ہوا ہے جب دہلی پولیس نے جنتر منتر کو احتجاج کے لیے مقررہ مقامات کی فہرست سے خارج کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ خبر کے مطابق اب دہلی میں احتجاج کی اجازت صرف تین مقامات پر ہوگی۔ پولیس کے اس فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ یوتھ کانگریس نے جنتر منتر پر پابندی کو احتجاج کے حق سے جوڑتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو عوامی مقامات پر پُرامن طریقے سے اپنے مطالبات پیش کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ تنظیم نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ بھی مارچ کے ایجنڈے میں شامل کیا، تاہم پولیس نے مظاہرین کو منزل تک پہنچنے نہیں دیا۔