کولکاتا14اکتوبر: مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے رہنماؤں آشوتوش رانکا اور سورو داس کی گرفتاری پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک بیان پوسٹ کیا ہے۔ ممتا بنرجی نے اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف دو لیڈروں کا معاملہ نہیں ہے بلکہ پوری نوجوان نسل کو ڈرانے اور خاموش کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے جمہوریت اور اپنے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی۔ جانیں ممتا بنرجی نے اپنے ٹویٹ میں کیا کہا:میڈیا رپورٹس کے مطابق ممتا بنرجی نے 14 اکتوبر کو سوشل میڈیا پر اپنا پیغام شیئر کیا۔ان کا کہنا تھا کہ نسلوں نے جمہوری حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے اور یہ لڑائی جاری رہنی چاہیے۔ انہوں نے کاکروچ جنتا پارٹی ف کے رہنماؤں کی گرفتاری کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئینی حقوق پر کبھی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ ممتا نے الزام لگایا کہ ملک کے کئی حصوں میں جمہوریت کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال میں 14,000 لوگوں کو پولیس اور سیاسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اپنے پیغام میں ممتا بنرجی نے حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو بھول چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کی، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے ہے۔
ممتا نے دعویٰ کیا کہ کسی بھی حکومت کا خاتمہ قریب ہوتا ہے جب وہ اصولوں کو فراموش کردیتی ہے۔ اپنے پیغام میں، اپنے پیغام میں انہوں نے جئے ہند، وندے ماترم، اور جئے بنگلہ کے نعرے بھی لگائے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور ملک کے تحفظ کے لیے عوام کو اکٹھا ہونا چاہیے۔