بھوپال:9اکتوبر:اسلام فطری اور عملی مذہب ہے ۔ اسلام نے اپنے پیروکاروں کو وہی حکم دیا جو انسانی فطرت کے عین مطابق ہے اور پھرعمل کی بار بار تلقین بھی کرتاہے تاکہ انسانیت کے محاسن اور اس کے اوصاف کا مظاہرہ ہو اور وہ اللہ کی دیگر مخلوقات سے ممتازاورباوقار نظر آئے ۔ دنیا میں سیکڑوں مذاہب ہیں مگر اسلام میں جو خوبصورتی اور فطرت انسانی سے ہم آہنگی پائی جاتی ہے ،اس کا مقابلہ اور کوئی مذہب کرنے سے قاصر ہے ۔ مذکورہ باتیں آج نماز جمعہ سے قبل موتی مسجد بھوپال میں قاضی شہر مولانا سید مشتاق علی ندوی مدظلہٗ نے حاضرین مسجد سے خطاب فرماتے ہوئے کہیں۔قاضی شہر نے فرمایا کہ میں گزشتہ کئی جمعہ سے اسی عنوان پر آپ حضرات سے گفتگو کررہا ہوں۔اس سے قبل میں نے والدین کے حقوق اولادوں پر بات کی ،اولادوں کے والدین پر حقوق کو بیان کیا ،میاں بیوی کے باہمی حقوق پر روشنی ڈالی ،رشتہ داروں کے حقوق بیان کئے اور آج پڑوسیوں کے حقوق پر باتیں کرنا چاہتا ہوں ۔ سب سے پہلے آپ حضرات یہ سمجھ لیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کی جبلت میں مل جل کر رہنا ڈالا ہے ۔آپ کسی جانور کو دیکھیں وہ ہم سے الگ فطرت رکھتے ہیں ،ایک جانور اپنے سامنے دوسرے جانور کی موجودگی برداشت نہیں کرتا الا یہ کہ آپ ایک جگہ کئی جانوروں کو علاحدہ علاحدہ کھونٹے میں باندھ کر ایک ساتھ رہنے پر مجبور کردیں۔ انسان کا معاملہ اس سے بالکل جدا ہے ،یہ ایک ساتھ رہنا ،ایک دوسرے کے کام آنا ، ایک دوسرے کو مدد پہنچانا اور راحت و مشکلات بانٹ کر جینا چاہتا ہے۔ ظاہر ہے جب کئی انسان ایک جگہ بودو باش کرتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کے پڑوسی کہے جائیں گے ۔ اسلام چونکہ اصولوں پر مبنی مذہب ہے ،یہ جہاں نماز، روزے ،حج ،زکوٰۃ کی باتیں کرتا ہے وہیں بڑی خصوصیت کے ساتھ انسانی معاشرے کی بھی باتیں کرتا ہے تا کہ معاشرے میں حسن پیدا ہو اسی لئے پڑوسیوں کے باہمی حقوق پر بھی بندگان خدا کو توجہ دلائی گئی ہے۔ قرآن مقدس میں اس موضوع پر خوصوصیت کے ساتھ خطاب کیا گیا ہے حتیٰ کہ پڑوسیوں کی قسمیں بھی بتائی گئی ہیں نمبر 1پر آپ کا سب سے قریبی پڑوسی آپ کے پڑوس میں رہنے والے ان افراد کو قرار دیا گیاہے جو آپ کے رشتہ دار بھی ہیں ، دوسرے نمبر پر وہ پڑوسی جو آپ کے گھر کے نزدیک ہیں اور اسلام کی خوبصورتی تو دیکھئے ،اس شخص کو بھی آپ کا پڑوسی بتایا جو گھنٹہ دو گھنٹہ یا دن بھر کیلئے آپ کے ساتھ ٹرین یا دوسری سواری میں آپ کی بغل والی سیٹ پر سفر کررہا ہے ،آپ دوران سفر ان کے ساتھ بھی اچھے اخلاق سے پیش آئیں تو وہ آپ کا پورے سفر میں دوست بن جاتا ہے ۔اسلام تو محبت اور بھائی چارے کا ہی پیغام دیتا ہے ۔
الغرض نمبر 1پڑوسی کا آپ پر سب سے زیادہ حق ہے اس کے بعد دوسرے اور تیسرے نمبر کی باری آتی ہے ۔ قاضی شہر نے فرمایا کہ مگر افسوس اسلام نے جوزریں اسباق ہمیں پڑھائے ہیں ،آج ہمارا ان پر عمل نہیں ۔ اب تو بڑی بڑی عمارتوں کے درجنوں فلیٹوں میں قیام پذیر مسلمان اپنے فلیٹ کے بغل میں رہنے والے دوسرے مسلمان کو پہچانتے بھی نہیں ،ان کا نام تک معلوم نہیں ، سوچئے یہ لوگ اپنے پڑوس میں رہنے والے دوسرے مسلمان کے کس کام آتے ہوں گے ، جو آپس میں ایک دوسرے کے نام سے بھی واقف نہیں ۔ یقیناً ہم عملی طور پرعالم انحطاط میں مبتلا ہوگئے ہیں ورنہ ایک دو نسل پیچھے جائیں، اپنی والدہ، دادی،نانی کے زمانے کو دیکھیں،در حقیقت وہی معزز ہستیاں اپنے پڑوسیوں کے حقوق سے آگاہ تھیں۔ایک دوسرے کے گھر میں بنے عمدہ سالن اور گوشت آپس میں بانٹ کر کھایا جاتا تھا جس سے ایک محلے میں رہنے والے تمام لوگوں کو ہر گھر کا ذائقہ معلوم رہتا تھا مگر اب تو مسلمانوں کے گھروں میں موجود فریج نے ایسی کنجوسی برپا کردی ہے کہ آج کا بنا گوشت کئی دنوں تک خود کھاتے رہتے ہیں ،کیا مجال کہ پڑوسی تک اس کی خشبو بھی پہنچ جائے ۔اب تو پڑوسی بننا بھی ہمیں گوارہ نہیں ،ہائی سوسائٹی کے پروردہ مسلمان اب مسلمانوں کی اجتماعی آبادی میں رہنا بھی پسند نہیں کرتے ،انہیں ایسی جگہ چاہئے جہاں ان کی رہائش گاہ کے چاروں طرف دور دور تک کوئی انسان نہ رہتا ہو،یہ ایسے انسان ہیں جو انسان سے ہی بھاگتے ہیں ۔پڑوسیوں کے حقوق اور ان کے ساتھ مل جل کر رہنے کے فائدے ہمیں اس وقت معلوم ہوں گے جب ہم قرآن کو پڑھیں اور اسلام کا مطالعہ کریں مگر ہم تو پڑھتے ہی نہیں ،ہمیں عظمت انسانی اور اعلیٰ اقدار کی جستجو کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ ہم تو خود ہی سے بے خبر ہیں پھر پڑوسیوں کی خبر کہاں !
پڑھئے ،اسلام کو خوب پڑھئے ، آپ کو معلوم ہوگا کہ معلم انسانیت ﷺ نے پڑوسیوں کے حوالے سے فرمایا ہے کہ آپ اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھئے اور ان سے خیر خواہی کا معاملہ رکھئے تاکہ وہ بھی آپ کے خیر خواہ بنیں۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر آپ اپنے بچوں کیلئے آم ،کیلے،امرود،سیب الغرض جو بھی پھل لے کر آئے ہیں ،اگر اس کی مقدار کم ہے اور مستحق پڑوسی کو دینے کی گنجائش نہیں تو خبر دار! وہ چیز اپنے گھر کا دروازہ بند کر کے کھائیں اور چھلکا اپنے گھر کے باہر کھلی جگہ ہرگز نہ پھینکیں کہیں ایسا نہ ہوکہ اس چھلکے پر آپ کے پڑوسی کے بچوں کی نگاہ پڑ جائے اور وہ مایوس ہوجائیں کہ ان کے والد کے پاس پیسے ہوتے تو ان کے گھر بھی یہ پھل آتا۔محترم حاضرین مسجد آپ ہی بتائیں کہ اتنا خوبصورت اور حساس سبق کسی اور مذہب نے پڑھایا ہے ؟
میں نے تو آج تک نہ دیکھا نہ سنا۔آخر میں آپ حضرات کی توجہ اسی بات کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ زندگی کو خوبصورت بنانے کی چاہت رکھتے ہیں تو اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کریں،اس پر عمل کریں اور اپنے ایمان والے بھائیوں کو بھی اس کی تلقین کریں۔اللہ رب العزت ہمیں اپنے پڑوسیوں کا اپنی گنجائش کے مطابق خیال رکھنے کی توفیق بخشے ۔









