ترواننت پورم 8اکتوبر: کیرلم پولیس نے گھریلو تشدد سے نمٹنے اور استحصال کا سامنا کر رہی خواتین کی مدد کرنے کی سمت میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ’اسپیک اپ‘ کے نام سے خصوصی ٹاسک فورس شروع کی ہے۔ اس کا مقصد متاثرین کو کسی خوف یا سماجی دباؤ کے بغیر مدد طلب کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ ریاست کے محکمہ داخلہ کے حکم کے بعد یہ خصوصی ٹاسک فورس آئی پی ایس افسر اجیتھا بیگم سلطان کی نگرانی میں کام کرے گی۔ یہ پروگرام متاثرین کو قانونی مدد، کونسلنگ، محفوظ رہنے کی جگہ اور روزی روٹی کے لیے مدد فراہم کرے گا، تاکہ وہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کر سکیں۔ ریاستی وزیر داخلہ رمیش چنیتھلا نے جمعرات (8 اکتوبر) کو کہا کہ گھریلو تشدد ایک ’خاموش قاتل‘ (سائلنٹ کِلر) ہے، جو خواتین کو ذہنی اور جسمانی طور پر تباہ کر سکتا ہے۔ کسی بھی خاتون کو معاشی یا خاندانی خوف کی وجہ سے انصاف سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ کیرلم میں اس مسئلہ کا دائرہ تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ گزشتہ 7 سال میں ریاست میں گھریلو تشدد کے باعث 92 خواتین کی موت ہوئی ہے۔ کئی دیگر خواتین خوف کی وجہ سے بدسلوکی کی شکایت درج نہیں کراتیں۔ ’اسپیک اپ‘ خاص طور پر ایسی خواتین پر توجہ مرکوز کرے گا۔ ریاستی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ یہ پہل متاثرین کو یہ سمجھنے میں مدد دے گی کہ شکایت کیسے درج کی جائے اور انہیں دستیاب قانونی اقدامات اور شکایت درج ہونے کے بعد اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں بتائے گا۔ خواتین کو محفوظ ماحول میں اپنے تجربات شیئر کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
جیسے کسی بہن یا قابل اعتماد دوست سے بات کرنا۔ ٹاسک فورس متاثرین کے ساتھ برتاؤ کرتے وقت روایتی پولیسنگ کے طریقوں سے ہٹ کر کام کرے گی۔ ان کی رازداری پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ جب بدسلوکی کی اطلاع ملے گی تو پولیس افسر سادہ لباس میں متاثرہ خاتون سے رابطہ کریں گے۔ ہر معاملے کے لیے ایک الگ افسر مقرر کیا جائے گا۔ افسر ہر ہفتہ ذاتی طور پر معاملے کا جائزہ لے گا۔