نئی دہلی6اکتوبر: الیکشن کمیشن کے خلاف ’انڈیا‘ اتحاد کے احتجاج کے دوران لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر سخت الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ ’ووٹ چوری‘ کے ذریعے ملک کو ہائی جیک کیا گیا اور کہا کہ جو کچھ ملک کے ساتھ کیا گیا ہے اسے ’قوم سے غداری‘ کہا جاتا ہے۔ راہل گاندھی، کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، پرینکا گاندھی، پون کھیڑا اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے آکاشوانی بھون کے احاطے میں ایک درخت کے نیچے دھرنا دیا۔ اس سے قبل ’انڈیا‘ اتحاد کے تقریباً 300 ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ کیا، تاہم پولیس نے انہیں راستے میں روک دیا۔ کئی اپوزیشن رہنماؤں کو حراست میں بھی لیا گیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن کے تقریباً 300 ارکان پارلیمنٹ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور دیگر الیکشن کمشنروں سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں، لیکن انہیں الیکشن کمیشن کے دفتر سے چند ہی میٹر کے فاصلے پر روک دیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر عوام کے منتخب نمائندے ہی الیکشن کمیشن سے ملاقات نہیں کر سکتے تو پھر جمہوریت کا کیا مطلب رہ جاتا ہے؟
انہوں نے کہا، ’’الیکشن کمیشن کا کام انتخابات صحیح طریقے سے کرانا ہے۔ 300 ارکان پارلیمنٹ گیانیش کمار سے ملنا چاہتے ہیں، لیکن ہمیں وہاں جانے نہیں دیا جا رہا۔‘‘ راہل نے کہا کہ مودی، امت شاہ اور موہن بھاگوت نے ’ووٹ چوری‘ کر کے ملک کو ہائی جیک کیا اور گیانیش کمار نے اس میں ان کی مدد کی۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ ’’ان لوگوں نے جو کیا ہے وہ قوم سے غداری ہے‘‘ اور کہا کہ اس معاملے میں کسی کو بھی جواب دہی سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔ ان کے مطابق ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہوگی۔ احتجاج کے دوران راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹوں کو عبور کرنے کی کوشش بھی کی۔ راہل گاندھی ایک موقع پر بیریکیڈ پر چڑھ گئے اور قومی پرچم لہرایا۔ پولیس نے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب بڑھنے کی کوشش کرنے والے مظاہرین کو روکنے کے لیے متعدد سطحوں پر بیریکیڈنگ کر رکھی تھی۔